حیدرآباد ۔ 15 ۔ اکٹوبر : ( پریس نوٹ ) : حیدرآباد لٹریری فورم (حلف ) اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیر اہتمام 14 اکٹوبر کو اردو ہال حمایت نگر میں مشہور فکشن نگار کرشن چندر صدی تقاریب کے سلسلے میں معروف ترقی پسند ادیب پروفیسر علی احمد فاطمی ( الہ آباد ) کے توسیعی لکچر کا اہتمام کیا گیا ۔ صدارت پروفیسر بیگ احساس ، صدر حلف نے کی جب کہ پدم شری مجتبیٰ حسین ، صدر انجمن ترقی پسند مصنفین (حیدرآباد ) مہمان خصوصی رہے ۔
محترمہ قمر جمالی ، جنرل سکریٹری حلف و ترقی پسند مصنفین نے جلسے کی کارروائی چلائی ۔ ادب میں کمٹمنٹ ایک اہم مسئلہ ہے ۔ پروفیسر علی احمد فاطمی روز اول سے ترقی پسند ادیب رہے تو آج تک ان کی فکر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ ادب کے ساتھ ان کا یہی کمٹمنٹ انہیں اوروں سے ممیز کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فاطمی صاحب سمینارز کی ایک بے حد پسندیدہ شخصیت ہیں ۔ پروفیسر بیگ احساس نے صدارتی خطبے میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں پیش کردہ مقالوں پرکہا کہ فاطمی نے کرشن چندر کے افسانوں میں رومانی امکانات کی تلاش خوبصورت انداز میں کی ۔ کرشن چندر ہمہ وقتی ادیب تھے ۔ زندگی کی آخری سانس تک لکھتے رہے ۔ اس لیے ان پر سطحیت کا الزام لگایا گیا ۔ یہی نہیں بلکہ وہ مخالفتوں کا سامنا کرتے رہے ۔ وہ ہمیشہ ثابت قدم رہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ کرشن چندر بلا شبہ ایک بہت بڑے ادیب تھے ۔ انہوں نے صرف قومی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی مسائل پر لکھا ۔ اور تو اور فلسفہ وجودیت پر کرشن چندر سے اچھا کسی نے نہیں لکھا ۔ ان کی کہانیاں ’ آدھے گھنٹے کا خدا ‘ اور ’اشوک کی موت ‘ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں ۔
مہمان مقرر نے ’رومان ، حقیقت اور کرشن چندر ‘ پرایک پر مغز مقالہ پیش کیا اور کہا کہ ترقی پسند ادب کے حوالے سے جس طرح سردار جعفری بحث طلب اور نزاعی رہے ، کم و بیش نثر یا افسانوی ادب میں کرشن چندر بھی اسی طرح موضوع بحث رہے ۔ اس کے باوجود احتشام حسین ، ظ انصاری ، سید محمد عقیل ، قمر رئیس ، حسن عسکری اور وارث علوی ، کرشن چندر کو بہت بڑا ادیب مانتے ہیں ۔ فاطمی نے کرشن چندر کی رومانیت اور حقیقت نگاری پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کہ رومانیت اور حقیقت پسندی دونوں ایک دوسرے کے متضاد ہیں مگر عجیب بات یہ ہے کہ کرشن چندر کا رومان حقیقت سے بہت قریب ہے ۔ ان کا نظریہ حیات اور مشاہدہ کائنات ، ان کی فنکارانہ پیش کش کی وجہ سے انہیں فنکارانہ تزکیہ نفس کی منزل تک پہنچا دیتی ہے ۔ کرشن کے ہاں فطرت بہت اہم جز و تخلیق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرشن چندر اپنے ہمعصروں میں ، اپنے دور میں ایسے منفرد و مختلف فنکار رہے جنہیں کہانی کی رمز آشنائی ، گہرائی اور گیرائی کچھ اس انداز سے ملی کہ اکثر خارجی جاذبیت داخلی رمزیت میں بدل جاتی ہے ۔ کرشن چندر نے زندگی سے بہت پیار کیا ۔
ان کے موضوعات کی وسعت اور انداز کا اختلاف ان کے پورے ادب کو نظر میں رکھ کر ان کے اسلوب و تکنیک کے بارے میں رائے قائم کرنے کے درمیان حائل ہوتا ہے ۔ حتی کہ گوپی چند نارنگ نے بھی کہا کہ کرشن چندر پر اسلوب و تکنیک وغیرہ کے حوالے سے گفتگو کرنا آسان نہیں ہے ۔ بس رومانیت ہی ایسا وصف اور حسن ہے جو ان کی بنیادی پہچان ہے ۔ مہمان خصوصی جناب مجتبیٰ حسین نے کرشن چندر سے اپنے دیرینہ مراسم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کرشن چندر ایک ہمہ جہت فنکار تھے ۔ انہوں نے صرف سنجیدہ ادب ہی تخلیق نہیں کیا بلکہ مزاحیہ ادب بھی لکھا ۔ ’ گدھے کی سرگذشت ‘ اور دیگر مضامین اس کا بین ثبوت ہیں ۔ 1960 میں انہوں نے مزاح نگاروں کی کانفرنس کی صدارت کی ۔ مجتبیٰ حسین صاحب نے علی احمد فاطمی کے مقالے کی ستائش کی اور انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ فاطمی ، علی سردار جعفری اور قمر رئیس کی وراثت کو کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔ ڈاکٹر یوسف اعظمی نے کسی نکتہ پر علی احمد فاطمی سے بات کی جس کا فاطمی صاحب نے سیر حاصل جواب دیا ۔
اس محفل کا انعقاد نہایت کم وقت میں ہنگامی حالات میں کیا گیا تھا باوجود اس کے ہال ادیبوں ، دانشوروں اور شاعروں سے بھر گیا ۔ جلسہ نہایت کامیاب رہا ۔ آخر میں قمر جمالی ناظم جلسہ کے شکریہ پر یہ کامیاب محفل اختتام کو پہنچی ۔ پروگرام کے درمیان ممتاز صحافی و کالم نگار نافع قدوائی کے انتقال کی خبر ملی ۔ دونوں انجمنوں کے اراکین نے موصوف کی رحلت پر شدید غم کا اظہار کیا اور دو منٹ کی خاموشی منائی ۔۔