کراچی ۔ 11 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں آج معمول کی زندگی اچانک تھم سی گئی ، جب سیکوریٹی اہلکاروں نے رات کے آخری پہر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ہیڈکوارٹرس پر دھاوا کردیا جس کے خلاف اس پارٹی کے کارکنوں نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ پاکستانی رینجرس کے اس دھاوے کے دوران ایم کیو ایم کے ایک کارکن کو گولی ماردی گئی جس کے نتیجہ میں برسر موقع ہلاک ہوگیا جبکہ ایم کیو ایم مرکزی رابطہ سیل کے ایک رکن کے بشمول دیگر کئی کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ ایم کیو ایم اور پاکستانی رینجرس کے تعلقات ویسے بھی کشیدہ رہے ہیں کیونکہ ایم کیو ایم ہمیشہ رینجرس کو اپنے ارکان کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کیلئے مورد الزام ٹھہرایا کرتی ہے۔ رینجرس نے گزشتہ ماہ بلدیہ ٹام فیکٹری میں آتشزدگی کے ایک واقعہ میں ایم کیو ایم کو ماخوذ کیا تھا، آتشزدگی کے اس مہیب واقعہ میں کم سے کم 258 سندی کارکن زندہ جھلس کر فوت ہوگئے تھے۔ پاکستان رینجرس کے کرنل طاہر نے میڈیا سے کہا کہ یہ دھاوا 5 بجے صبح شروع کیا گیا تھا جو دو گھنٹوں تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ ’’تقریباً 15 افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان کے قبضہ سے ممنوعہ اسلحہ برآ مد کئے گئے ۔ ہمیں وہ اسلحہ بھی دستیاب ہوئے جو بندرگاہ کراچی سے افغانستان کو منتقل کے دوران ناٹو کے کنٹینروں سے سرقہ کئے گئے تھے‘‘۔