تمام 10 دہشت گرد مارے گئے ۔13 گھنٹے فائرنگ کا تبادلہ
تحریک طالبان پاکستان نے حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی
کراچی 9 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) کراچی انٹرنیشنل ائرپورٹ پر کل رات دیر گئے دہشت گردوں کی جانب سے کیا گیا حملہ آج دو پہر میں ختم ہوگیا جبکہ وہاں 13 گھنٹوں تک فارئنگ کا تبادلہ ہوتا رہا جس کے نتیجہ میں جملہ 29 افراد ہلاک ہوگئے ۔ مہلوکین میں تمام 10 دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ پاکستان کی ممنوعہ تحریک طالبان پاکستان نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی جو کل رات نصف شب سے عین قبل شروع ہوا تھا ۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت پاکستان کو یہ پیام دینے کیلئے حملہ کیا ہے کہ ہم گاووں پر بم حملوں کے ذریعہ عوام کو ہلاک کرنے کا جواب دینے کیلئے ابھی زندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کا بدلہ لینے کیلئے کیا گیا تھا ۔ حکیم اللہ محسود کو امریکی ڈرون طیارہ کے حملے میں ہلاک کیا گیا تھا ۔ تفصیلات کے بموجب کل رات دیر گئے دس دہشت گرد دو گروپس میں بٹ کر ائرپورٹ میں داخل ہوئے جس کے بعد وہاں سکیوریٹی فورسیس بشمول فوج کے ساتھ 13 گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ۔ نیم فوجی رینجرس ‘ پولیس اور ائرپورٹ سکیوریٹی فورس نے بھی اس کارروائی میں حصہ لیا ۔ کہا گیا ہے کہ حملہ آور فوجی یونیفارم میں خودکش جیکٹس پہنے ہوئے وہاں آئے تھے اور ان کے پاس گرینیڈز اور راکٹ لانچرس بھی تھے ۔ انہوں نے پاکستان کے مصروف ترین کراچی ائرپورٹ کو نشانہ بنایا ۔ مہلوکین میں ائرپورٹ سکیوریٹی فورس کے 11 اہلکار ‘ پاکستان رینجرس کے دو عہدیدار ‘ ایک پولیس عہدیدار اور چار پاکستان انٹرنیشنل ائرلائینس کے عہدیدار مرنے والوں میں شامل ہیں۔ نیم فوجی رینجرس کے ترجمان سبطین رضوی نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ ختم ہوگیا ہے اور سارے عسکریت پسندوں کو مار گرایا گیا ہے ۔ اس کارروائی میں تمام 10 دہشت گدر بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ ساحلی شہر کراچی میں حالیہ عرصہ کا سب سے دلیرانہ حملہ تھا ۔ ڈائرکٹر جنرل رینجرس میجر جنرل رضوان اختر نے میڈیا کو بتایا کہ سکیوریٹی فورسیس نے سات دہشت گردوں کو ہلاک کیا جبکہ تین نے خود کو دھماکہ سے اڑا لیا ۔ آئی ایس آئی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ تمام دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں اور ائرپورٹ کو کلئیر کردیا گیا ہے ۔