کجریوال کا ’ سوچھ دہلی ابھیان ‘ کامیاب ، دارالحکومت سے بی جے پی کا صفایا

وزیراعظم مودی اور عام لوگوں کو تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے عام آدمی پارٹی کی دعوت
کانگریس کے 70 میں 62 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط۔نئی اسمبلی کیلئے 6 خواتین کا انتخاب
امانت اللہ خاں، حاجی اشراق، عاصم احمد خان اور عمران حسین نومنتخب چار مسلم لیجسلیٹرس

نئی دہلی 10 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) مودی کی مسلسل پیشرفت کو روکتے ہوئے عام آدمی پارٹی نے آج دہلی اسمبلی الیکشن میں فقیدالمثال کامیابی درج کراتے ہوئے 70 نشستوں کے منجملہ 67 جیت لئے جبکہ بی جے پی کو روند دیاجسے محض 3 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا اور کانگریس کا صفایا ہوگیا جس کا کھاتہ تک نہ کھل سکا۔ دہلی اسمبلی انتخابات کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر ریفرینڈم قرار دیا جا رہا تھا اور اس ریفرینڈم میں عام آدمی پارٹی کے طوفان اور سونامی نے بی جے پی اورکانگریس دونوں پارٹیوںکے طاقتور سمجھے جانے والے امیدواروں کو خود ان کے گڑھ میں بھی کراری شکست سے دوچار کردیا ۔عام آدمی پارٹی کی آج کی جیت ملک کی تاریخ میں شاذ و ناذر ملنے والی کامیابی کہی جاسکتی ہے ۔ صرف 1989ء میں سکم سنگرام پریشد نے اسمبلی کی تمام 32 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ 46 سالہ سابق ریونیو سرویس عہدیدار اروند کجریوال جنہوں نے پارٹی کو تن تنہا فتح سے ہمکنار کرایا، انہیں بعد ازاں’’آپ‘‘ لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر منتخب کرلیا گیا جس کے بعد انہوں نے تشکیل حکومت کا دعویٰ پیش کردیا اور ان کی حلف برداری تقریب ممکن ہے ہفتہ 14 فبروری کو یہاں رام لیلا میدان پر منعقد ہوگی ۔ اتفاق کی بات ہے کہ ایک سال قبل 13 فبروری 2014 کو انہوں نے چیف منسٹر کی حیثیت سے استعفی پیش کیا تھا ۔ لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ نے کجریوال کو واقف کرایا کہ وہ ایک رپورٹ صدر جمہوریہ کو بھیجیں گے جو تشکیل حکومت کیلئے ضابطہ کی کارروائی ہے۔ انتخابات کے رجحانات اور نتائج کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے صبح ہی اروند کجریوال کو فون پر مبارکباد دی

اور انہیں دہلی کی ترقی میں مرکز کی جانب سے ہر ممکنہ تعاون کی پیشکش کی۔کجریوال نے باوقار نئی دہلی اسمبلی حلقہ سے زائد از 31,500 ووٹوں کے فرق سے قریب ترین بی جے پی حریف و سیاسی نو وارد نوپور شرما کو شکست دی ۔ سابق وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر کرن والیا کو اپنے حلقہ میں صرف 4,700 ووٹوں کے ساتھ تیسرا مقام ملا اور وہ اپنی ضمانت نہیں بچاسکیں ۔سابقہ آئی پی ایس آفیسر اور مخالف کرپشن تحریک میں کجریوال کی سابقہ معاون کرن بیدی کو غیر متوقع طور پرچیف منسٹر امیدوار بنانے کا جوکھم بی جے پی کیلئے مہنگا پڑگیا۔ بی جے پی جس نے نو ماہ قبل لوک سبھا الیکشن میں تمام 7 نشستیں جیتیں،اس کیلئے وزیراعظم مودی کے ’سوچھ بھارت ‘کے مقابل کامیاب ’’سوچھ دہلی ابھیان‘‘ ثابت ہوا۔کرن بیدی روایتی گڑھ کرشنا نگر میں عام آدمی پارٹی حریف ایس کے بگا کے مقابل ہارگئیں، جہاں پارٹی کے ویٹرن ہرش وردھن طویل عرصہ سے کامیاب ہورہے تھے۔ کرن بیدی کو زائد از 2000 ووٹوں سے شکست ہوئی۔ کانگریس کے وزارت اعلیٰ امیدوار اجئے ماکن کو بھی صدر بازار حلقہ میں عام آدمی پارٹی کے سوم دت کے خلاف 50,000 سے زائد ووٹوں سے شکست ہوئی اور وہ اپنی ضمانت نہیں بچاسکے ۔

ماکن نے کانگریس جنرل سکریٹری کے عہدہ سے استعفیٰ پیش کردیا ہے۔ بی جے پی کو کچھ حلیف جماعتوں اور مخالفین کی تنقیدوں کا سامنا ہے ۔ شیوسینا نے بھی کجریوال کو مبارکباد دی ہے ۔ اودھو ٹھاکرے نے کہا کہ وہ انا ہزارے کے ریمارک سے اتفاق کرتے ہیں کہ دہلی کا نتیجہ مودی کی شکست ہے ۔ دہلی نے ظاہر کردیا کہ لہر سے زیادہ سونامی طاقتور ہے ۔ شکست خوردہ قائدین بی جے پی کے جگدیش مکھی ‘ رام ویر سنگھ بدھوری اور کرشناتیرتھ بھی شامل ہیں جو کانگریس سے علیحدگی اختیار کرکے بی جے پی میں شامل ہوئیں ۔ کانگریسیوںمیں اے کے والیا ‘ ہارون یوسف ‘ چودھری پریم سنگھ اورراج کمار چوہان (تمام سابق وزراء)نیز مہابل مشرا جیسے سینئر قائدین ہیں۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کی دختر شرمشٹھا مکرجی کو بھی کانگریس کے ٹکٹ پر گریٹر کیلاش میں ناکامی ہوئی ۔