کتی مہیش کے خلاف کارروائی میں برہمن لابی کارفرما

بی جے پی ۔ ٹی آر ایس سیاست کی کارستانی ، بیٹا بے قصور ، مہیش کے والد کا بیان
حیدرآباد ۔ /11 جولائی (سیاست نیوز) حیدرآباد سٹی پولیس کی جانب سے شہر بدر کی کارروائیاں ریاست میں سیاسی تنازعہ کا سبب بن گئی ہیں ۔ شہر و ریاست میں امن و امان کو لاحق خطرات کے پیش نظر سٹی پولیس کی کارروائی کو حق بجانب قرار دیا جارہا ہے ۔ جبکہ زعفرانی تنظیموں نے اس کارروائی کو ریاستی حکومت کی مخالف ہندو پالیسی قرار دیا ہے ۔ سٹی پولیس نے ہندو دیوتا شری رام کے خلاف ریمارکس پر کتی مہیش کو شہر سے تڑی پار کردیا جبکہ اس کی مخالفت میں جمع ہندو رہنماؤں بالخصوص سوامی ہری پورنا نندا کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہوئے انہیں 6 ماہ تک شہر میں داخلے سے منع کردیا ۔ اس بات پر برہم زعفرانی تنظیموں نے اپنا شدید احتجاج درج کروایا ہے ۔ جبکہ بی جے پی سوامی کی مدافعت میں اتر آئی ۔ بی جے پی نے تلنگانہ حکومت کو اس کارروائی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بی جے پی ووٹ بنک پالیسی کا خطرناک کھیل کھیل رہی ہے ۔ کتی مہیش کی تائید میں اس کے والد نے کہا کہ ان کا یہ بیٹا بے قصور ہے اور اس نے جو کہا ہے وہ بالکل درست ہے اور وہ اس پر قائم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دلت ہونے کے سبب کتی مہیش کے خلاف برہمن لابی کام کررہی ہے ۔ ایک طرف دلت برہمن اور دوسری طرف بی جے پی ۔ ٹی آر ایس کی سیاست مرکز میں ’’بغل گیری اور ریاست میں بغل زنی ‘‘ دونوں پارٹیوں کی پالیسی سے نئی سیاسی بحث چھڑگئی ہے ۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ٹی آر ایس حکومت نے موقع کی منتظر بی جے پی کے لئے ماحول کو گرمانے اور اپنے وجود کا احساس دلانے کا موقع فراہم کردیا ہے ۔ اب بی جے پی اس مسئلہ پر ہر دن سیاست گرمائے گی ۔ بی جے پی کی فہرست میں شامل پسندیدہ ترین لوک سبھا نشستوں میں سے ایک کریم نگر میں آج زبردست ریالی منظم کی گئی جو سوامی ہری پورنا نندا کی حمایت اور ٹی آر ایس کی مخالفت میں تھے ۔ اس سلسلہ میں ضلع کریم نگر سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری مرلی دھر راؤ نے اپنے سوشیل نٹ ورکنگ سائیٹ ٹوئیٹر سے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کے سی آر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنی نظام حیدرآباد کے انداز حکومت سے تعبیر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہری پورنا نندا کو شہر بدر کرنا ہندو سماج کی توہین اور یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ جبکہ بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن نے سوامی کے خلاف کی گئی کارروائی کو مخالف ہندو کارروائی قرار دیا ۔ اور مطالبہ کیا سوامی کے خلاف عائد تمام مقدمات کو فوری واپس لیا جائے اور غیر مشروط ان کے خلاف پابندی کو ہٹادیا جائے ۔ ڈاکٹر لکشمن نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شری رام کے خلاف نازیبا الفاظ کہنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کے بجائے حکومت رام کے بھگتوں پر ظلم ڈھارہی ہے ۔ حیدرآباد سٹی پولیس نے گزشتہ نومبر میں ہندو سینا کے اجلاس میں ہری پورنا نندا کی جانب سے دیئے گئے بیان کے خلاف موصولہ شکایتوں پر کارروائی کی گئی ۔ تاہم ان حالات سے ریاست کی سیاست گرما گئی ہے اور ذات و فرقہ کا کھیل کھیلنے کے لئے میدان تیار کیا جارہا ہے ۔ لیکن ریاست کی عوام ان حالات اور سازشوں سے بہ خوبی واقف ہیں ۔