40 دن میں صرف 11 گواہوں سے جرح
مقدمہ میں تاخیر کیلئے ہر روز کوئی نہ کوئی بہانہ بنانے کی کوشش
پٹھان کوٹ۔ 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کتھوعہ عصمت ریزی اور قتل کیس کے مقدمہ کی سماعت میں تاخیر کیلئے کوئی نہ کوئی بہانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فاسٹ ٹریک کی بنیاد پر مقدمہ کی واضح ہدایت کے باوجود یہ کیس کچھوے کی چال سے چل رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے فاسٹ ٹریک عدالت ، اس لئے قائم کیا تھا، معصوم لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کیس کے ملزمین کو جلد سے جلد سزا ملے لیکن بعض گوشوں کی جانب سے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ جتنا ہوسکے اس مقدمہ میں تاخیر کی جائے۔ مقدمہ کو طول دینے کیلئے پٹھان کوٹ ضلع عدالت کے سامنے ہر روز کوئی نہ کوئی درخواست داخل کرکے تاخیر سے کام لیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ 9 جون 2018 ء کو کیس کی باقاعدہ سماعت شروع ہوئی ۔ ایک ماہ 10 دن مقدمہ کی کارروائی گذرنے کے بعد کل 221 میں سے صرف 11 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے ۔ اور ان کی جرح ہوئی ہے۔ ایک کیمسٹ جس سے ملزم نے لڑکی کو مبینہ طور پر بے ہوش کرنے کیلئے دوا لی تھی ، گواہی دینے سے انکار کردیا۔