کبھی 45,000 کروڑ تو کبھی 54,000 کروڑ سے شہر کی ترقی کے وعدے

بلدی حدود میں زیادہ اسمبلی نشستوں پر کامیابی کیلئے رائے دہندوں کو جھانسہ
حیدرآباد۔/27 جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی گریٹر حیدرآباد کے حدود میں اسمبلی کی زائد نشستوں پر کامیابی کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے نتائج کی طرح اسمبلی انتخابات میں بھی 24 کے منجملہ کم سے کم 15 نشستوں پر کامیابی کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ حیدرآباد میں ترقی کے نام پر عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے ہزاروں کروڑ کے ترقیاتی منصوبے کا اعلان کیا۔ کبھی 45,000 کروڑ تو کبھی 54,000 کروڑ سے شہر کو ترقی دینے کا وعدہ کیا گیا۔ ان ہزاروں کروڑ کا انتظام کہاں سے کیا جائے گا اس بارے میں آج تک کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ زرعی شعبہ اور کسانوں کو مراعات دینے میں مصروف ٹی آر ایس حکومت نے پہلے ہی فلاحی اسکیمات کا بجٹ روک دیا ہے۔ ایسے میں حیدرآباد کی ترقی کیلئے ہزاروں کروڑ کے یہ اعلانات محض سیاسی حربہ اور عوام کے کان خوش کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں اسمبلی کی زائد نشستوں پر کامیابی کیلئے رائے دہندوں کو ہزاروں کروڑ کا نیا جھانسہ دیا جارہا ہے۔ شہر کے عوام 45,000 کروڑ یا 54,000 کروڑ کے اعلان سے خوش ہونے والے نہیں ہیں۔ حکومت کو گزشتہ 4 برسوں میں شہر کی ترقی کیلئے خرچ کئے گئے بجٹ کی تفصیلات برسرعام پیش کرنا چاہیئے جس کے بعد عوام نئے وعدوں پر بھروسہ کرسکتے ہیں۔ 2014 کے اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کو صرف 3 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی جبکہ بلدی انتخابات میں 150 ڈیویژنس کے منجملہ 99 ڈیویژنس پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے بہتر مظاہرہ کیا تھا۔ 2001ء میں تلنگانہ تحریک کے آغاز کے بعد سے پہلی مرتبہ ٹی آر ایس نے گریٹر حیدرآباد میں اپنے وجود کا احساس دلایا۔ وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دورِ حکومت میں ٹی آر ایس نے بلدی انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔ گریٹر حیدرآباد کی 24 اسمبلی نشستوں میں ٹی آر ایس کو 2014 ء میں صرف 3 نشستیں حاصل ہوئیں تاہم بعد میں تلگودیشم سے 8 ارکان اسمبلی نے انحراف کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ شہر میں تلگودیشم کو 9 نشستوں پر کامیابی ملی تھی اور ایل بی نگر کے رکن اسمبلی آرکرشنیا ابھی بھی تلگو دیشم میں برقرار ہیں۔ ٹی آر ایس کو یقین ہے کہ اسمبلی انتخابات میں اس کا مظاہرہ بہتر رہے گا اور گریٹر حدود میں قیام پذیر آندھرائی باشندے اس مرتبہ ٹی آر ایس کی تائید کریں گے۔ ٹی آر ایس کے ایک قائد نے کہا کہ تلنگانہ میں تلگودیشم کا کوئی وجود نہیں ہے اور آندھرائی عوام کانگریس اور بی جے پی سے ناراض ہیں لہذا ان کے پاس ٹی آر ایس کی تائید کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ پارٹی آئندہ انتخابات میں آندھرائی آبادی والے علاقوں سے آندھرا قائدین کو ٹکٹ دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ کانگریس سے ڈی ناگیندر کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے بعد مزید قائدین کی شمولیت کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔ دیگر اہم قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے کیلئے ڈی ناگیندر اور دیگر قائدین کو میدان میں اُتارا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ برسراقتدار پارٹی شہر کے17 اسمبلی حلقوں پر توجہ مرکوز کرے گی اور حلیف جماعت کیلئے 7 نشستیں چھوڑ دی جائیں گی۔ ٹی آر ایس اس بات کیلئے کوشاں ہے کہ آئندہ انتخابات میں حیدرآباد سے بی جے پی کا ایک بھی امیدوار کامیاب نہ ہوسکے۔