ٹاملناڈو کے غیرموزوں جج کو سپریم کورٹ تک پہنچانے کی کوشش کی گئی، جسٹس کپاڈیہ بھی نشانہ
نئی دہلی ، 11 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ایک نیا تنازعہ چھیڑتے ہوئے صدرنشین پریس کونسل آف انڈیا (پی سی آئی) جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے آج الزام عائد کیا کہ اپنے وقت کے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کے جی بالکرشنن نے مدراس ہائی کورٹ کے ایک جج کو جن کی ’’خراب ساکھ‘‘ تھی ، ترقی دیتے ہوئے سپریم کورٹ تک پہنچانے کیلئے دباؤ ڈالا تھا۔ انھوں نے کہا کہ جسٹس بالکرشنن زیرقیادت کالجیئم جس میں جسٹس ایس ایچ کپاڈیہ بھی تھے، اس جج کو فاضل عدالت تک لانے میں ’’لگ بھگ کامیاب‘‘ ہوگیا تھا لیکن ٹاملناڈو میں وکلاء نے اسے ناکام بناتے ہوئے ’’اُن (جج موصوف) کے کرپشن کے ضخیم دستاویزی ثبوت‘‘ پیش کردیئے۔ جسٹس بالکرشنن جو موجودہ طور پر چیرمین قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) ہیں، تبصرے کیلئے فوری طور پر دستیاب نہ ہوئے جبکہ اُن کے دفتر نے کہا کہ وہ سرکاری دورے پر ملائیشیا گئے ہیں اور اس ہفتے کے اواخر واپس ہوں گے۔ کاٹجو نے قبل ازیں جسٹس بالکرشنن اور دو دیگر سابق سی جے آئیز کو یو پی اے حکمرانی کے دوران ٹاملناڈو کے ایک جج کو کرپشن کے شک میں برقرار رکھنے میں ’’نامناسب مصلحتوں‘‘ کا مورد الزام ٹھہرایا تھا۔ جسٹس بالکرشنن نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے سابق جج کاٹجو نے تازہ دعوے اپنے بلاگ پر پیش کئے اور ساتھ ہی جسٹس کپاڈیہ کے ریمارکس پر ردعمل بھی ظاہر کیا، جو اُن کے کل کے بلاگ کے جواب میں سامنے آئے ہیں۔ جسٹس کپاڈیہ نے کہا تھا کہ انھوں نے کسی بھی غیرموزوں جج کو سپریم کورٹ تک نہیں پہنچایا۔ ’’میں انھیں (کپاڈیہ) یاد دلاؤں کہ سپریم کورٹ کالجیئم جس کی سربراہی (تب کے) سی جے آئی کے جی بالکرشنن کررہے تھے، اور جس کے جسٹس کپاڈیہ ایک رکن تھے، وہ بالکلیہ غیرموزوں شخص کو سپریم کورٹ میں لانے میں لگ بھگ کامیاب ہوگیا تھا،‘‘ کاٹجو نے یہ بات کہی۔ انھوں نے مزید کہا، ’’وہ جج مدراس ہائی کورٹ کا ایک جج تھا جب میں وہاں چیف جسٹس تھا، لہذا مجھے اُن کی خراب ساکھ کے تعلق سے سب کچھ معلوم ہے۔ بعدازاں، انھیں ایک اور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا، اور سپریم کورٹ تک ترقی کیلئے (ان کے نام پر) غور کیا جارہا تھا‘‘۔ کاٹجو نے کہا کہ ایک روز لنچ وقفے کے دوران وہ جسٹس کپاڈیہ کے چیمبر گئے اور انھیں تفصیلات کے ساتھ اُس جج کی ’’خراب ساکھ‘‘ کے تعلق سے واقف کرایا۔کاٹجو نے یہ بھی بتایا کہ انھیں سننے کے بعد جسٹس کپاڈیہ نے اُن کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مستقبل میں بھی اگر انھیں اس طرح کی معلومات ملے تو ان کے گوش گزار کرنا چاہئے۔