نااہل قرار دینے اسپیکر سے نمائندگی کا فیصلہ، استعفیٰ کے بعد شامل کرنے اتم کمار ریڈی کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 20۔ مارچ (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی نے پارٹی سے انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی کو وجہ نمائی نوٹس جاری کی ہے۔ تادیبی کارروائی کمیٹی کے صدرنشین ایم کودنڈا ریڈی نے یہ نوٹس جاری کی ۔ پارٹی سے انحراف کے بارے میں موصولہ اطلاعات کے بارے میں اندرون تین یوم وضاحت کرنے کی ہدایت دی گئی۔ کسی بھی عدم وضاحت کی صورت میں پارٹی تبدیل کرنا متصور کیا جائے گا اور اس کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کانگریس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا غیر اخلاقی ہے ۔ انتخابی مہم کے دوران ٹی آر ایس اور چیف منسٹر کے سی آر پر تنقید کی گئی تھی ۔ کارکنوں کی سخت محنت کے نتیجہ میں آپ کو کامیابی حاصل ہوئی۔ عوام نے کانگریس کے اصولوں پر بھروسہ کرتے ہوئے آپ کو کامیابی دلائی ۔ انتخابی مہم میں پردیش کانگریس اور اے آئی سی سی کے قائدین نے بھی شرکت کی تھی ۔ کانگریس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد آپ نے غیر قانونی طریقہ سے ٹی آر ایس میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ میڈیا میں شمولیت کی اطلاعات شائع کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 8 ارکان اسمبلی کو نوٹس جاری کی گئی ۔ اسی دوران صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ ارکان اسمبلی کے خلاف قانون کے دائرہ میں ہر ممکن کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کا انحراف موقع پرستی کی بدترین مثال ہے ۔ پارٹی میں مختلف عہدے اور حکومت میں وزارت پر فائز رہنے کے بعد پارٹی سے دھوکہ دہی غیر اخلاقی ہے۔ ان حرکتوں سے کارکنوں کے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور کانگریس پارٹی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے بیانات پرگتی بھون سے جاری کئے جارہے ہیں اور ہر ایک بیان میں علاقہ کی ترقی کا بہانہ بناکر شمولیت کا اعلان کیا جارہا ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ اسمبلی اور کونسل کو پرگتی بھون منتقل کردیں تو بہتر رہے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اپوزیشن سے ارکان اسمبلی منتخب نہ ہوں تو کیا علاقہ کی ترقی نہیں ہوگی ؟ انہوں نے کہا کہ ڈی کے ارونا کو پارلیمنٹ کیلئے مقابلہ کرنے کا پیشکش کیا گیا تھا لیکن انہوں نے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ لالچ کا شکار ہوکر جو ارکان اسمبلی انحراف کر رہے ہیں، عوام کی نظر میں وہ گرچکے ہیں۔ انہیں عوام سبق سکھائیں گے۔ اتم کمار ریڈی نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ اگر ان میں اخلاقی جراء ت ہو تو ارکان اسمبلی کے استعفے حاصل کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شامل کرائیں اور انہیں دوبارہ عوام کا خطہ اعتماد حاصل کرنے کی ہدایت دیں۔ اس وقت پتہ چلے گا کہ عوام منحرف ارکان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔