کئی حلقوں میں کانگریس کا موقف مستحکم، ٹی آر ایس پر سرکاری مشنری کے استعمال کا الزام
حیدرآباد۔/12اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے سینئر قائدین کا اجلاس آج گاندھی بھون میں منعقد ہوا جس میں لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کے حق میں رائے دہی اور کامیابی کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ آر سی کنتیا ، صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، کارگذار صدر کسم کمار، محمد اظہر الدین، سابق فلور لیڈر قانون ساز کونسل محمد علی شبیر، سابق صدر پردیش کانگریس پونالہ لکشمیا، ڈاکٹر چناریڈی، ومشی چندرریڈی، کونڈا وشویشور ریڈی، انیل کمار، دامودر راج نرسمہا اور دوسروں نے شرکت کی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اجلا س میں موجود پارٹی امیدواروں نے اپنے حلقوں میں رائے دہی کے رجحان سے قائدین کو واقف کرایا۔ چیوڑلہ میں کانگریس پارٹی کے حق میں بہتر رائے دہی ریکار ڈ کی گئی اور وشویشور ریڈی کو بھاری اکثریت سے کامیابی کا یقین ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے پولیس کے ذریعہ کارکنوں کو ہراساں کرنے کے باوجود کانگریس کیڈر نے پورے حوصلے کے ساتھ کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہی سے قبل بھاری رقم ضبط کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے پولیس نے ان کے امیج کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ نلگنڈہ، بھونگیر، چیوڑلہ، ظہیرآباد اور ملکاجگیری لوک سبھا حلقوں میں پارٹی کے بہتر مظاہرے کے بارے میں رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی آر سی کنتیا نے حکومت کی جانب سے سرکاری مشنری کے بیجا استعمال کے خلاف کانگریس قائدین اور کارکنوں کی جدوجہد پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ کم سے کم 10 لوک سبھا حلقوں پر کانگریس باآسانی کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ عوام میں کانگریس کے حق میں خاموش لہر دیکھی گئی۔صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے نلگنڈہ اور بھونگیر میں پارٹی کے حق میں بہتر رائے دہی سے واقف کرایا۔ امیدواروں نے شکایت کی کہ بعض اضلاع میں ضلع کلکٹرس نے برسراقتدار پارٹی کے اشاروں پر کام کیا ہے۔ پارٹی نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور بے قاعدگیوں پر الیکشن کمیشن سے نمائندگی کی ہے۔ اجلاس میں شریک قائدین نے توقع ظاہر کی کہ تلنگانہ کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی نتائج کانگریس کے حق میں رہیں گے۔