کانگریس کے باغی امیدواروں کو دستبردار ہونے کا مشورہ

سی پی آئی سے اتحاد پر قائدین کے ساتھ نا انصافی کا اعتراف : آنند بھاسکر

حیدرآباد ۔ 10 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : کانگریس پارٹی نے تلنگانہ میں حکومت کی تشکیل کو یقینی قرار دیتے ہوئے پارٹی کے باغی امیدواروں کو دستبردار ہوجانے اور کانگریس امیدواروں کی کامیابی کے لیے کام کرنے کا مشورہ دیا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے رکن راجیہ سبھا مسٹر آنند بھاسکر نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد علاقہ تلنگانہ میں پہلی مرتبہ عام انتخابات منعقد ہورہے ہیں ۔ علحدہ ریاست تشکیل دینے والی کانگریس پارٹی ہی تلنگانہ کو ترقی دے سکتی ہے ۔ ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر کانگریس کے حلقوں میں بے چینی ہے ۔ جس کا اعتراف کانگریس پارٹی کو ہے ۔ کانگریس پارٹی میں قیادت کے کئی اہل قائدین ہے تاہم سی پی آئی سے اتحاد کرنے کے بعد چند حلقوں میں قائدین ٹکٹ سے محروم ہوئے ہیں ۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ ٹکٹ کے مستحق نہیں ہے ۔ پارٹی ان کی خدمات سے مستقبل میں ضرور استفادہ کرے گی ۔ تنظیمی اور نامزد عہدوں کی تقسیم میں ان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا ۔ انہوں نے کانگریس کے قائدین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ جن حلقوں پر سی پی آئی سے اتحاد ہوا ہے ان حلقوں سے بھی فوری دستبرداری اختیار کریں ۔ کانگریس کے رکن راجیہ سبھا نے سربراہ ٹی آر ایس مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو خود غرض اور مفاد پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تلنگانہ کی تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے کونڈا لکشمن باپوجی ، اے نریندرا ، پروفیسر جئے شنکر اور وجئے شانتی کو دھوکہ دیا ہے ۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں اپنے ارکان خاندان کو جو اہمیت دی ہے وہ تلنگانہ کی تحریک میں حصہ لینے والوں کو نہیں دی ہے ۔ انہوں نے صدر تلگو دیشم پارٹی چندرا بابو نائیڈو پر بھی سخت تنقید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی لالچ میں علاقہ تلنگانہ سے بی سی طبقہ کو چیف منسٹر بنانے کا تو اعلان کردیا تاہم ٹکٹوں کی تقسیم میں بی سی طبقات کو یکسر نظر انداز کردیا سب سے زیادہ کانگریس پارٹی نے بی سی طبقات کو اہمیت دی ہے اور عام حلقوں سے بھی پسماندہ طبقات کو امیدوار بنایا ہے ۔۔