کانگریس کی بس یاترا کے دوسرے مرحلہ کا آج راما گنڈم سے آغاز

حیدرآباد 31 مارچ ( سیاست نیوز ) کانگریس کی پرجا چیتنیہ بس یاترا کے دوسرے مرحلے کا یکم اپریل سے آغاز ہورہا ہے ۔ 10 دن کے دوران ریاست کے 18 اسمبلی حلقوں کا احاطہ کیا جائے گا ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کی قیادت میں اس بس یاترا میں پارٹی کے تمام سینئیر قائدین شرکت کریں گے ۔ پہلے مرحلے کی بس یاترا کا چیوڑلہ سے آغاز ہوا تھا ۔ جس کے دوران 17 اسمبلی حلقوں میں احتجاجی جلسے منعقد کرکے حکومت کی ناکامیوں کو آشکار کیا گیا تھا ۔ یاترا سے کانگریس کیڈر میں جوش و خروش پیدا ہوا تھا ۔ اسمبلی اجلاس اور اے آئی سی سی پلینری سیشن کے پیش نظر بس یاترا کو بریک دیا گیا تھا جس کا یکم اپریل کو شام 6 بجے راما گنڈم سے آغاز ہورہا ہے جہاں بڑا جلسہ عام منعقد کیا جائے گا ۔ 2 اپریل کو شام 6 بجے پداپلی میں 3 اپریل کو دوپہر 2 بجے منتھنی اور شام 6 بجے بھوپال پلی میں جلسہ منعقد کیا جائے گا ۔ 4 اپریل کو دوپہر 2 بجے اسٹیشن گھن پور اور شام 6 بجے پالکورتی 5 اپریل کو شام 5 بجے نرسم پیٹ 6 اپریل کو دوپہر 2 بجے پرکال شام 6 بجے ہنمکنڈہ 7 اپریل کو دوپہر 2 بجے ایلندو شام 6 بجے پنیاپکا 8 اپریل کو دوپہر 2 بجے ڈورنکل شام 6 بجے محبوب آباد 9 اپریل کو دوپہر 12 بجے وینکٹا پورم شام 5 بجے ملگو 10 اپریل کو دوپہر 2 بجے وردھنا پیٹ شام 6 بجے ورنگل ایسٹ میں جلسہ عام کا اہتمام کیا جائے گا ۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بس یاترا پروگرام کو کامیاب بنائیں ۔ کانگریس نے اسمبلی بجٹ سیشن میں حکومت کی ناکامیوں ، بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کو آشکار کرنے کی تیاری کرلی تھی لیکن حکومت نے منظم سازش کے تحت پارٹی کے دو ارکان اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار کی رکنیت منسوخ کرکے تمام ارکان اسمبلی و ارکان کونسل کو بجٹ سیشن تک معطل کردیا ۔ کانگریس نے حکومت کے خلاف جو الزامات عائد کئے تھے اس کی سی اے جی رپورٹ نے تصدیق کی ۔ ریاست میں زرعی شعبہ بحران کا شکار ہے ۔ ہزاروں کسانوں نے خود کشی کی ہے ۔ کمیشن کی خاطر ریاست کو قرض کے دلدل میں ڈھکیل دیا گیا ہے ۔ ان تمام موضوعات کو کانگریس ایوان میں اٹھانا چاہتی تھی مگر انہیں بس یاترا کے ذریعہ عوام میں پیش کیا جائے گا ۔ حکومت کی ناکامیوں وعدوں کی خلاف ورزیوں کو آشکار کیا جائے گا ۔