کانگریس کی بس یاترا کی کامیابی سے راہول گاندھی مطمئن

آئندہ مرحلہ کی بس یاترا میں شرکت کرنے سے اتفاق ، ریاستی قائدین کی دہلی میں پارٹیا صدر سے ملاقات

حیدرآباد 21اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ کانگریس کی پرجا چیتنیہ بس یاترا کی کامیابی سے صدر کانگریس راہول گاندھی مطمئن ہیں ۔ انہوں نے بس یاترا کے آئندہ مرحلے میں شرکت کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ سکریٹری انچارج تلنگانہ کانگریس امور آر سی کنٹیا کی قیادت میں تلنگانہ کے کانگریس قائدین اُتم کمار ریڈی ، ارکان اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ، سمپت کمار سابق وزیر ایم ششی دھر ریڈی جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ڈی شرورن ایڈوکیٹ جی روی شنکر نے آج دہلی پہونچکر صدر کانگریس راہول گاندھی سے ملاقات کی ۔ ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے کانگریس کے دو ارکان اسمبلی کو رکنیت سے محروم کرنے اور ہائی کورٹ کی جانب سے رکنیت بحالی کرنے ۔ کانگریس کی پرجا چیتنیہ بس یاترا کی کامیابی کے علاوہ ریاست کی تازہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ کانگریس کی بس یاترا پر عوام کا مثبت ردعمل حاصل ہو رہے ۔ سماج کے تمام طبقات رضاکارانہ طور پر کانگریس کے جلسوں میں شرکت کرتے ہوئے ٹی ار ایس حکومت سے اپنی ناراضگی کا ثبوت دے رہے ہیں اور کانگریس پارٹی بس یاترا کے ذریعہ حکومت کی ناکامیوں کو آشکار کر رہی ہے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ آئندہ مرحلے کی بس یاترا میں شرکت کرنے سے راہول گاندھی نے اتفاق کیا ہے۔ آئندہ مرحلے کی بس یاترا پروگرام کو ایک دو دن میں قطعیت دی جائے گی ۔ راہول گاندھی بس یاترا سے کہاں خطاب کریں گے ۔ اس کا بہت جلد اعلان کیا جائے گا ۔ راہول گاندھی نے کانگریس کی بس یاترا کے علاوہ دوسرے پروگرامس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ انتخابات میں اسی جذبے کو برقرار رکھنے کا تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کو مشورہ دیا ہے ۔ اسمبلی کی رکنیت بحال ہونے پر راہول گاندھی نے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور اسپیکر اسمبلی مدھو سدن چاری پر غیر جمہوری غیر دستوری فیصلہ کرتے ہوئے دو کانگریس کے ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے اور باقی تمام ارکان اسمبلی کو بجٹ سیشن تک معطل کردینے کا الزام عائد کیا ۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے ۔ انہوں نے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے چیف منسٹر سے استعفی دینے کا بھی مطالبہ کیا ۔