نئی دہلی۔ 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج کہا کہ کانگریس لوک سبھا انتخابات میںاپنی ’’عدم کارکردگی‘‘ کی وجہ سے ناکام رہی۔ اس کی مصنوعات قابلِ فروخت نہیں تھیں جبکہ بی جے پی نے اپنی مصنوعات جو اچھی تھیں، عوام میں پیش کیں اور انہیں مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے لوک سبھا میں کہا کہ فروخت کی جانے والی مصنوعات اچھی ہونی چاہئیں۔ اگر یہ اچھی نہ ہوں تو تشہیر کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ہماری مصنوعات کو عوام نے ان کے معیار کی وجہ سے پسند کیا ہے۔ سشما سوراج کا تبصرہ کانگریس قائد ملکارجن کھرگے کی کل کی تقریر پر تنقید کی تھی جنہوں نے کہا تھا کہ بی جے پی تشہیر کی ماہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے انتخابی کامیابی حاصل ہوئی، جبکہ راہول گاندھی زیرقیادت کانگریس ناکام رہی۔ سشما سوراج نے کہا کہ آپ نے بھی تشہیر کی تھی لیکن آپ کی حکومت کے خلاف برہمی پھیلی ہوئی تھی، عوام نے نریندر مودی کو متبادل کے طور پر اور برسراقتدار اتحاد کے اُمیدوار کے طور پر قبول کیا۔ عوام نے ذات پات اور رنگ و نسل سے بالا تر ہوکر ووٹ دیئے ۔ وہ صدرجمہوریہ کے خطاب پر تحریک تشکر کے مباحث میں حصہ لے رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ 1984ء کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایک ہی پارٹی کو اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ 1980ء میں کانگریس کو 300 نشستیں حاصل ہوئی تھیں، اس کے بعد 1984ء میں اس نے 400 سے زیادہ نشستیں حاصل کرلی تھیں۔ عوام سمجھتے تھے کہ واحد پارٹی کی اکثریت کا دور ختم ہوچکا ہے لیکن اس بار بی جے پی نے 282 اور این ڈی اے 336 نشستیں حاصل کرکے اس تصور کو غلط ثابت کردیا۔ سادہ اکثریت کیلئے صرف 272 نشستیں کافی تھیں۔ خواتین کی بااختیاری کے مسئلہ پر سشما سوراج نے کہا کہ خواتین تحفظات بل سولہویں لوک سبھا کا ترجیحی مسئلہ ہونا چاہئے۔ بی جے پی نے اس بل کی چار سال قبل راجیہ سبھا میں منظوری میں مدد کی تھی اور اب اظہارِ خیرسگالی کے طور پر قائد کانگریس پارلیمانی پارٹی لوک سبھا ملکارجن کھرگے کو این ڈی اے کی تائید کرتے ہوئے یہ بل منظور کروانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر تھا کہ ہندوستان کی کہانی ختم ہوچکی ہے لیکن اب بین الاقوامی قائدین میں ہندوستان کے دورہ کے لئے مسابقت ہورہی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ترقی کی کہانی میں شراکت دار بنیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اپوزیشن کی جانب سے انتخابی کامیابی پر بی جے پی کو غرور آجانے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس اس عوامی فیصلہ نے بی جے پی کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد کردی ہے۔