نئی دہلی 15 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) راہول گاندھی کی قیادت پر ہونے والی تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر اے کے انٹونی نے آج کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی شکست کیلئے راہول گاندھی ذمہ دار نہیں ہیں ۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ سونیا اور راہول گاندھی کی قیادت میں پارٹی کا احیاء عمل میں آئیگا ۔ انٹونی اس کمیٹی کے سربراہ تھے جس نے انتخابات میں پارٹی کی شکست کی وجوہات کا جائزہ لیا تھا اور انہوں نے کل اپنی رپورٹ سونیا گاندھی کو پیش کردی ہے ۔ انہوں نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا کہ انتخابات کے بعد راہول گاندھی کی قیادت پر سوال پیدا ہوگیا ہے اور انٹونی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس تعلق سے کچھ تجاویز پیش کی ہے ۔ مسٹر انٹونی نے کہا کہ یہ سب کچھ قیاس ڑآئی ہے ۔ کچھ بھی غلط نہیں ہے ۔ اس طرح کی افواہیں جو لوگ پھیلا رہے ہیں وہ پارٹی کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح کی باتیں شرارت پسند لوگ پھیلاتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ پارٹی کو کمزور کیا جائے ۔ مسٹر انٹونی کل ہند کانگریس کے ہیڈ کوارٹرس پر رسم پرچم کشائی کے موقع پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی شکست کی وجوہات کچھ مختلف تھیں۔ انہوں نے تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ ان کی رپورٹ میں شکست کی وجوہات کیا بتائی گئی ہیں۔ کانگریس کو 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ سونیا اور راہول گاندھی نے اس موقع پر نامہ نگاروں کے سوالات کے جواب نہیں دئے اور انہوں نے سب کو یوم آزادی کی مبارکباد دی ۔ اے کے انٹونی نے کہا کہ یہ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی ہی تھے جنہوں نے لوک سبھا انتخابات سے قبل سارے ہندوستان کا دورہ کرتے ہوئے پارٹی کے جلسوں سے خطاب کیا تھا ۔ ابتداء ہی میں مسٹر انٹونی نے کہا کہ ان کی قیادت والے پیانل کل ہی سونیا گاندھی کو اپنی رپورٹ پیش کردی ہے تاہم انہوں نے اس رپورٹ کی تفصیل بتانے سے انکار کردیا ۔ اس کمیٹی میں انٹونی کے علاوہ مکل واسنک ‘ آر سی کھنٹیا اور اویناش پانڈے شامل تھے ۔ انہوں نے کل اپنی رپورٹ سونیا گاندھی سے ملاقات کرکے پیش کی تھی ۔ مسٹر انٹونی نے کہا کہ وہ اس کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتے ۔ وہ یہ رپورٹ کی تفصیل کا انکشاف نہیں کرینگے ۔ وہ اس تعلق سے کچھ بھی کہنا نہیں چاہتے ۔
انٹونی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ 1977 کی طرح کانگریس پارٹی اس مشکل وقت سے نکل آئیگی ۔ کانگریس پارٹی پہلے بھی ایسے حالات کا شکار رہی ہے اور اس سے نکل آئی ہے ۔ اس بات بھی ہم اپنا نقصان پورا کرنے میں کامیاب رہیں گے اور پھر ایک بار اپنی بنیادوں کو مستحکم کرینگے ۔ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کی قیادت میں پارٹی کا احیاء عمل میں آئیگا ۔ قیادت کے تعلق سے پارٹی میں خود دبی دبی ناراضگی کے تعلق سے مسٹر انٹونی نے کہا کہ اس طرح کے قائدین کو چاہئے کہ وہ پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے دوسرا کچھ کریں ۔ انتخابات سے قبل انٹونی نے ہی راہول گاندھی کو نائب صدر کانگریس بنانے کی تجویز پیش کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو شکست ہوئی ہے اور ناراضگی ظاہر کرنے والے قائدین کو پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے کچھ کرنا چاہئے ۔ ہمیں مکمل یقین ہے کہ ہم اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرلیں گے ۔ پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں پارٹی کی بحیثیت مجموعی شکست پر رپورٹ کے علاوہ مخصوص ریاستوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان ریاستوں کے قائدین سے بات چیت ہوئی ہے اور شکست کی وجوہات پر روشنی ڈالنے کے علاوہ کچھ سفارشات بھی کی گئی ہیں۔ اب جبکہ ملک کی چار ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اس رپورٹ سے پارٹی قیادت کو جلد از جلد صورتحال کو بہتر بنانے اقدامات کرنے میں مدد ملے گی ۔ مسٹر انٹونی نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں پارٹی قائدین کے ساتھ مشاورت میں یہ واضح ہوگیا کہ انتخابات کیلئے صرف راہول گاندھی اور سونیا گاندھی نے مہم چلائی ہے ۔ سینئر قائد نے تجویز کیا کہ پارٹی نے دوسری سطحوں پر مستحکم انداز میں کام نہیں کیا ہے جس کی ضرورت تھی ۔ اس سوال پر کہ آیا اس رپورٹ کے بعد پارٹی سیٹ اپ میں کسی طرح کی تبدیلیاں کی جائیں گی مسٹر انٹونی نے کہا کہ اس تعلق سے فیصلہ کرنا کانگریس صدر کا کام ہے ۔ کانگریس میں پرینکا گاندھی کے رول سے متعلق استفسار پر انہوں نے کہا کہ خود پرینکا گاندھی اس تعلق سے وضاحت کرچکی ہیں اور وہ اس پر مزید کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں پارٹی قیادت یا دوسروں کو نشانہ بنانے کی بجائے بی جے پی کی جانب سے میڈیا مینجمنٹ کو پارٹی کی شکست کے اہم عوامل میں شامل کیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ کانگریس کی تنظیمی کمزوروں کو بھی اس رپورٹ میں تفصیل سے اجاگر کیا گیا ہے ۔