تلنگانہ کی مخالفت کا شاخسانہ، وزیر داخلہ تلنگانہ این نرسمہا ریڈی کا بیان
حیدرآباد /21 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ کے وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے کانگریس کو کھوٹا سکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل میں رکاوٹ بننے والے سابق چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی عوام کی نظروں سے اوجھل ہوچکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لمحہ آخر تک علحدہ ریاست کی تشکیل میں رکاوٹ بننے والے کرن کمار ریڈی نے علحدہ ریاست کی تشکیل پر تلنگانہ تاریکی میں ڈوب جانے کا ادعا کیا تھا، تاہم ٹی آر ایس حکومت بالخصوص چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے برقی کٹوتی کی روایت کو ختم کرتے ہوئے بلاوقفہ برقی سربراہ کر رہے ہیں، جس سے شہری اور دیہی علاقہ کے عوام حکومت سے خوش ہیں اور چیف منسٹر کی کار کردگی پر اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موسم گرما میں توقع کے برعکس عوام کو برقی مل رہی ہے، جس کی وجہ سے ٹی آر ایس حکومت پر عوام کا اعتماد بڑھ رہا ہے اور اپوزیشن کانگریس پر سے اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سوچھ حیدرآباد پروگرام کی کامیابی سے کانگریس بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ عوام میں اپنی شناخت برقرار رکھنے کے لئے کانگریس قائدین حکومت پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس اور تلگودیشم نے 60 سال تک راج کیا، تاہم دونوں نے عوامی مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں لی، بلکہ ان کو مزید پیچیدہ بنادیا۔ سوچھ حیدرآباد پروگرام کے بارے میں کانگریس اور تلگودیشم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا، جب کہ ٹی آر ایس حکومت شہر حیدرآباد کو صاف ستھرا اور سرسبز و شاداب بنانے کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے حیدرآباد کو عالمی طرز پر ترقی دینے کا منصوبہ بنایا ہے اور تلنگانہ کے تمام مکانات میں آئندہ 40 برسوں تک نل کا کنکشن نہ دینے پر عوام سے ووٹ نہ مانگنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ تالابوں کا احیاء کرتے ہوئے زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ کی حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے پروگرامس اور اسکیمات پر کبھی کانگریس اور تلگودیشم نے غور نہیں کیا اور نہ ہی عوامی مفادات کو پیش نظر رکھا۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت، غریب عوام کی حکومت ہے، لہذا وہ عوامی مسائل حل کرنے کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔