مدینہ ایجوکیشن سنٹر میں جمعیت کا اجلاس ، صدر پی سی سی تلنگانہ پنالہ لکشمیا کی شرکت
حیدرآباد ۔ 10 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : جمعیت العلماء نے تلنگانہ میں کانگریس کی تائید کرنے کا اعلان کیا ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر پنالہ لکشمیا نے جمعیت کے 12 اہم مطالبات کو قبول کرنے سے اتفاق کیا ۔ سابق ریاستی صدر مسٹر محمد علی شبیر نے ٹی آر ایس سے استفسار کیا کہ وہ ایس سی ۔ ایس ٹی اور بی سی طبقات کے تحفظات میں کتنے فیصد کی کٹوتی کرتے ہوئے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کریں گے ۔ اس کی عوام سے وضاحت کریں ۔ صدر جمعیت العلماء حافظ پیر شبیر احمد کی صدارت میں آج مدینہ سنٹر نامپلی میں جمعیت العلماء کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام ارکان عاملہ اور تلنگانہ 10 اضلاع کے صدور نے شرکت کی ۔ اس اجلاس میں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر پنالہ لکشمیا اور سابق ریاستی وزیر و معاون صدر تلنگانہ تشہیری کمیٹی مسٹر محمد علی شبیر کو مہمان خصوصی تھے ۔ صدر جمعیت العلماء نے 12 اہم مطالبات کانگریس کے سامنے پیش کئے جس میں ایس سی ، ایس ٹی طبقات کے طرز پر اقلیتوں کے لیے بھی سب پلان کا مطالبہ ارکان اسمبلی ، ارکان پارلیمنٹ کے فنڈز سے مسلم غلبہ والے علاقوں میں 20 فیصد فنڈز خرچ کرنے ، 4 فیصد مسلم تحفظات کی برقراری محکمہ اقلیت بہبود کے جائیدادوں پر فوری تقررات کرنے ۔ مسلم علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی ۔ سٹ ون سنٹرس کا قیام بنکوں سے راست قرضوں کی اجرائی ، مسلم نوجوانوں کو پولیس ہراسانی سے بچایا جائے ۔ دینی مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو آر ٹی سی بس اور ریلوے پاسیس جاری کئے جائے ۔ دینی مدارس میں برقی اور ایل پی جی گیس کی سہولت فراہم کی جائے ۔ بے گھر مسلمانوں کو اراضیات اور مکانات فراہم کئے جائے ۔ وقف جائیدادوں کا تحفظ کیا جائے ۔ دوسرے سرکاری محکمہ جات کے جو بھی قبضہ جات ہیں اس کو فوری برخاست کیا جائے یا پھر انہیں وقف بورڈ کا کرایہ دار بنایا جائے ۔ تمام ترقیاتی فلاحی کاموں میں مسلمانوں کو حصہ دار بنایا جائے ۔ اردو کو دوسری سرکاری زبان بناتے ہوئے حکومت کے تمام احکامات اردو میں بھی جاری کئے جائے ۔ تمام محکمہ جات میں اردو ترجمہ کی سہولت فراہم کیا جائے ۔ اردو ٹیچرس کے تقررات کے لیے خصوصی ڈی ایس سی کا اہتمام کیا جائے ۔
ان مطالبات کو محمد علی شبیر نے پڑھ کر سنایا ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے ان تمام سے اتفاق کیا اور کہا کہ کانگریس سیکولر جماعت ہے اور فرقہ پرستی کے خلاف جدوجہد کررہی ہے ۔ اقلیتوں کی ترقی اور بہبود کے معاملے میں کانگریس پارٹی عہد کی پابند ہے ۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں مسلمانوں سے مکمل انصاف نہ ہونے کا صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کی حکومت تشکیل پانے کے بعد آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کو کارپوریشن اور بورڈ کے نامزد عہدوں پر نمائندگی دی جائے گی ۔ مسٹر پنالہ لکشمیا کی موجودگی میں مسٹر محمد علی شبیر نے جمعیت العلماء کو تیقن دیا کہ حکومت تشکیل دینے کے بعد اندرون 2 ہفتے پارٹی کے انتخابی منشور پر عمل آوری کا آغاز کردیا جائے گا ہر تین ماہ میں ایک مرتبہ پارٹی اور حکومت کی سطح پر علمائے مشائخین ، دانشوروں کا ایک اجلاس طلب کرتے ہوئے منشور میں کئے گئے وعدوں پر عمل آوری کا جائزہ لیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ مسلم تحفظات کی برقراری کے لیے تلنگانہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں نمائندگی کی جائے گی اور جن مسلمانوں کو تحفظات نہیں مل رہا ہے انہیں بھی تحفظات فراہم کرنے کا جائزہ لینے کے لیے ایک ماہرین کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔ کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ 2009 کے عام انتخابات میں علاقہ تلنگانہ سے سوائے حیدرآباد کے ایک بھی مسلم قائد کامیاب نہیں ہوسکا اور یہ تاثر مل رہا ہے کہ مسلمان انتخابات میں کامیاب نہیں ہوسکتے اس کو غلط ثابت کرنے کے لیے وہ انتخابات میں مقابلہ کررہے ہیں جب کہ ان کے کونسل کی 5 سال تین ماہ کی میعاد ابھی باقی ہے ۔ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمان بیاک ڈور سے نہیں بلکہ فرنٹ ڈور سے ایوان میں داخل ہونے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کانگریس کی تائید کرنے پر جمعیت العلماء سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کانگریس کے کارکنوں کو مشورہ دیا وہ انتخابات میں جمعیت کی تائید حاصل کریں ۔۔