تاحال 9 ارکان منحرف، اسمبلی میں تعداد گھٹ کر 10 ہوگئی
حیدرآباد ۔ 20۔ مارچ (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی کو تلنگانہ میں انحراف کے ذریعہ ارکان اسمبلی کی جانب سے مسائل پیدا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک طرف پارٹی لوک سبھا انتخابات کی مہم میں مصروف ہیں تو دوسری طرف ارکان اسمبلی کے انحراف کا سلسلہ جاری ہے۔ کانگریس کے کولا پور اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرنے والے بی وشنو وردھن ریڈی نے آج ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کی اور ٹی آر ایس میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ۔ توقع ہے کہ وہ بہت جلد ٹی آر ایس میں شامل ہوجائیں گے۔ بعد میں میڈیا کے لئے بیان جاری کرتے ہوئے وشنو وردھن ریڈی نے کہا کہ عوام نے انہیں کولا پور اسمبلی حلقہ کے مسائل کی یکسوئی کیلئے منتخب کیا ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ریاست کے مختلف علاقوں کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ وشنو وردھن ریڈی نے کہا کہ وہ حلقہ کی ترقی کے مقصد سے ٹی آر ایس میں شمولیت کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ حلقہ کے عوام ، کارکنوں اور محبان سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ ضرورت پڑنے پر وہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے استعفیٰ دے کر ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے تیار ہے۔ وشنو وردھن ریڈی کانگریس کے 9 ویں رکن اسمبلی ہیں جنہوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مزید دو ارکان اسمبلی ٹی آر ایس سے ربط میں ہیں اور ان کی شمولیت کے بعد تمام ارکان اسمبلی کو بڑے گروپ کی شکل میں حقیقی سی ایل پی کے طور پر اسپیکر اسمبلی کے روبرو پیش کیا جائے گا جہاں سی ایل پی کو کانگریس میں ضم کرنے کی درخواست کی جائے گی ۔ اس طرح یہ ارکان اسمبلی انسداد انحراف قانون کے تحت کارروائی سے بچ سکتے ہیں۔ قانون ساز کونسل میں ٹی آر ایس میں چار ارکان کے انحراف کے ذریعہ لیجسلیچر پارٹی کو ٹی آر ایس میں ضم کردیا تھا ۔ تاحال ٹی آر ایس میں شمولیت کا اعلان کرنے والے ارکان میں وی وینکٹیشور راؤ ، سدھیر ریڈی ، کے اوپیندر ریڈی ، سبیتا اندرا ریڈی ، ہری پریا نائک ، سی ایچ لنگیا ، اے سکو اور آر کانتا راؤ شامل ہیں۔ اسمبلی میں کانگریس کے ارکان تعداد 19 تھی جو اب گھٹ کر 10 ہوچکی ہے۔