کانگریس کو اقتدار نہیں ملے گا، ٹی آر ایس حکومت بنائے گی

ٹی آر ایس اسمبلی و پارلیمنٹ امیدواروں کا اجلاس، صدر پارٹی کے چندراشیکھر راؤ کا خطاب

حیدرآباد۔/12اپریل، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ ریاست میں ان کی پارٹی کی حکومت کا قیام یقینی ہے اور کانگریس کے برسر اقتدار آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے آج تلنگانہ کے تمام اسمبلی و لوک سبھا حلقوں کے پارٹی امیدواروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور انتخابی حکمت عملی کو قطعیت دی گئی۔ اس اہم اجلاس میں امیدواروں کے علاوہ سینئر قائدین اور قانون ساز کونسل کے ارکان نے شرکت کی۔ تلنگانہ میں چندر شیکھر راؤ کی انتخابی مہم میں 3Dہولو گرام ٹکنالوجی کا استعمال اور اس کی افادیت سے امیدواروں کو واقف کرایا گیا۔اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ جس طرح ٹی آر ایس کے حق میں عوامی لہر دیکھی جارہی ہے اس کے مطابق وہ یہ کہنے کے موقف میں ہیں کہ ان کی پارٹی صد فیصد اقتدار میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کی جانب سے جاری کردہ انتخابی منشور پر بہر صورت عمل کیا جائے گا اور اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پارٹی نے ماہرین اور سینئر قائدین سے مشاورت کے بعد تلنگانہ کی ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے منشور تیار کیا ہے اور اس پر عمل آوری میں حکومت کو کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ انہوں نے کانگریس اور دیگر جماعتوں کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ ٹی آر ایس انتخابی منشور کے ذریعہ عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس عوام کو دھوکہ نہیں دے گی بلکہ ان ہی وعدوں کو انتخابی منشور میں شامل کیا گیا ہے جن پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ کے سی آر نے الزام عائد کیا کہ کانگریس پارٹی نے ٹی آر ایس کے انتخابی منشور کی نقل کرتے ہوئے اپنا منشور تیار کیا۔ کانگریس کے انتخابی منشور میں ناقابل عمل وعدوں کو شامل کیا گیا ہے جس پر عوام بھروسہ کرنے والے نہیں۔ صدر ٹی آر ایس نے مرکزی وزیر جئے رام رمیش کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ غیر ضروری طور پر ٹی آر ایس پر تنقید کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جئے رام رمیش اپنی سیاسی زندگی میں سرپنچ کی حیثیت سے بھی منتخب نہیں ہوئے لہذا انہیں ٹی آر ایس پر تنقید کا کوئی اخلاقی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سے مختلف شعبوں میں ناانصافی کیلئے جئے رام رمیش بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ کھمم کے سات منڈلوں کو سیما آندھرا میں شامل کرنے کیلئے جئے رام رمیش ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے جئے رام رمیش کو مشورہ دیا کہ وہ ٹی آر ایس پر تنقیدوں کا سلسلہ بند کریں ورنہ عوام مناسب سبق سکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پونالہ لکشمیا جیسے قائدین ابھی بھی سیما آندھرا قائدین کے ایجنٹ کے طور پر کام کررہے ہیں۔ کے سی آر نے کہاکہ پونالہ لکشمیا تلنگانہ عوام کی خواہشات اور اُمنگوں سے ناواقف ہیں اور ان کے پاس ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔انہوں نے جئے رام رمیش کے اس استدلال کو مسترد کردیا کہ تلنگانہ کی تعمیر نو صرف کانگریس پارٹی سے ہی ممکن ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ گذشتہ 14برسوں کی جدوجہد کے دوران انہوںنے عوامی خواہشات اور ضرورتوں کا قریب سے مطالعہ کیا ہے اور ٹی آر ایس کی حکومت ہی تلنگانہ کے مسائل کو حل کر پائے گی۔