مودی حکومت نے انیل امبانی کو 30 ہزار کروڑ حوالے کئے ، سپاہیوں کو کچھ نہیں ملا
نئی دہلی ۔ /27 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس راہول گاندھی نے کہا کہ مرکز میں کانگر یس کو اقتدار ملنے سے کئی مسائل حل ہوجائیں گے ۔ پارٹی اپنے تمام وعدوں کو پورا کرنے کا عہد کرچکی ہے ۔ سابق فوجیوں کے گروپ سے ملاقات کرتے ہوئے راہول گاندھی نے یہ بھی وعدہ کیا کہ ان کی حکومت آنے پر ون رینک ون پنشن کا مسئلہ بھی حل کیا جائے گا ۔ اے آئی سی سی ہیڈکوارٹر پر وظیفہ یاب فوجیوں کے ایک وفد سے 30 منٹ تک بات چیت کرنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں صدر کانگریس نے کہا کہ مودی حکومت میں کئی مسائل جوں کے توں برقرار ہیں ۔ راہول نے سابق فوجیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران رافیل معاہدہ کے مسئلہ اور کشمیر کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔ انہوں نے سابق فوجیوں سے کہا کہ اگر ان کی پارٹی کو 2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں اقتدار کیلئے ووٹ دیا گیا تو وہ تمام وعدوں کو پورا کرے گی ۔ کانگریس نے ہی ون رینک ون پنشن مسئلہ پر اپنا موقف واضح کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق فوجیوں نے مجھ سے کہا ہے کہ ون رینک ون ۔پنشن پر اب تک عمل آوری نہیں کی گئی ہے ۔ ان فوجیوں نے میرے ساتھ دیگر کئی مسائل پر بھی بات چیت کی ۔ ان مسائل کے علاوہ ان فوجیوں نے کہا کہ حکومت نے انیل امبانی کو 30 ہزار کروڑ روپئے دیئے ہیں لیکن ہم سپاہیوں کو کچھ نہیں ملا ۔ ہمیں ون رینک ون پنشن میں حاصل نہیں ہوسکا ۔ ہمارے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے 30 ہزار کروڑ کی رقم کافی ہے ۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ انیل امبانی زیرقیادت کمپنی کی حمایت کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کئی فوائد پہونچائے ہیں ۔ مودی حکومت نے ہی فرانس کے لڑاکا جیٹ طیاروں کے معاہدے کیلئے انیل امبانی کا نام تجویز کیا تھا ۔ تاہم انیل امبانی نے ان الزامات کی تردید کی ہے ۔ سابق فوجیوں کی اس ملاقات کے دوران سابق وزیر دفاع اے کے انتھونی ، اے آئی سی سی جنرل سکریٹری اشوک گہلوٹ، کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا کے علاوہ دیگر کئی سینئر ریٹائرڈ عہدیدار بھی موجود تھے ۔ میجر جنرل ریٹائرڈ ستویر سنگھ نے ون رینک ون پنشن کو روبہ عمل لانے کیلئے احتجاج کی قیادت کی تھی ۔ انہوں نے راہول سے ملاقات کے بعد ان سے اپیل کی کہ وہ ان کے مسائل کو حل کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سپاہیوں کو مجبوراً سڑکوں پر آنا پڑرہا ہے ۔ ہم بے عزتی محسوس کررہے ہیں ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ حکومت فوج کے وقار اور مرتبہ کو ملحوظ رکھے ۔ /15 اگست 1947 ء کو جو فوج کا موقف تھا اسے بحال کیا جائے ۔ گہلوٹ نے بھی اس ملاقات کے تعلق سے ٹوئٹ کیا اور اپنے خیالات ظاہر کئے ۔