کانگریس کا تخلیق نو کا عہد، دہلی انتخابات میں شکست فاش پر ردعمل

نئی دہلی 10 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی انتخابات میں شکست فاش پر صدمہ کا شکار کانگریس نے آج تیقن دیا کہ وہ اپنی ’’تخلیقِ نو‘‘ کرے گی اور اپنے ’’نظریاتی ڈھانچہ‘‘ کا جائزہ لے گی۔ صدر پارٹی سونیا گاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی نے اروند کجریوال اور عام آدمی پارٹی کو اُن کی زبردست کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ وہ فیصلہ کا احترام کرتے ہیں۔ انتخابات میں پارٹی کے چہرے کا کردار ادا کرنے والے اجئے ماکن نے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ دہلی اسمبلی انتخابات کے لئے پارٹی کی انتخابی مہم کمیٹی کے انچارج تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ شکست کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ تاہم کہاکہ پارٹی میں داخلی اختلافات دہلی سے پارٹی کے مکمل صفائے کے ذمہ دار ہیں۔ راہول گاندھی کو شکست کے الزام سے بری قرار دیتے ہوئے ماکن نے کہاکہ انتخابات مقامی مسائل پر ہوئے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ اُنھوں نے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جزوی طور پر سابق چیف منسٹر شیلا ڈکشٹ کو بھی شکست کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہاکہ جب عوام کانگریس سے سوال کرتے تھے کہ جو انتخابی وعدے اب کئے جارہے ہیں، وہ اُس وقت مکمل کیوں نہیں کئے گئے

جبکہ دہلی پر پارٹی 15 سال تک برسر اقتدار تھی۔ اِس سوال پر کہ جب عوام نے پارٹی کو ایک نئے چہرے کی پیشکش کے باوجود مسترد کردیا ہے تو اب متبادل راستہ کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ عام آدمی پارٹی کے لئے مثبت تائید زیادہ ہے اور دیگر پارٹیوں کو مسترد کردینا کم ہے۔ کانگریس قائد منیش تیواری نے کہاکہ انتخابی نتائج مختلف ہوسکتے تھے بشرطیکہ قائدین نے انتخابی مہم میں شرکت کی ہوتی۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر ہم آہنگی کے ساتھ انتخابی مہم چلائی جاتی تو ممکن تھا کہ فرق پیدا ہوجاتا۔ اُنھوں نے وضاحت کی کہ کانگریس کو دھکا انفرادی وجوہات سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ اُنھوں نے نظریاتی ڈھانچہ کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم نے اپنا مرکزی نظریاتی ڈھانچہ گزشتہ 10 سال کے دوران ترک کردیا ہے حالانکہ یہ نظریاتی ڈھانچہ بہت کامیاب تھا اور کافی طاقتور قانون سازی کی کارروائیاں اِس کے تحت کی گئی ہیں۔

اُنھوں نے کہاکہ کانگریس کے پیدا کئے ہوئے خلاء کو عام آدمی پارٹی نے پُر کردیا ہے۔ اِس کے لئے سخت محنت خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ کانگریس شیلا ڈکشٹ کی زیرقیادت دہلی پر 2013 ء تک 15 سال برسر اقتدار رہی تھیح۔ اِس کے بعد معلق اسمبلی وجود میں آئی تھی۔ کانگریس کو صرف 8 نشستوں ملی تھیں۔ موجودہ انتخابات میں پارٹی نے یہ تمام نشستیں بھی کھو دی ہیں۔ اِس سوال پر کہ کیا راہول گاندھی کو شکست کی ذمہ داری قبول کرنا چاہئے، اجئے ماکن نے کہاکہ دہلی کے انتخابات مقامی مسائل پر لڑے گئے تھے جیسے کہ برقی سربراہی اور بے گھروں کے لئے آسرا، میں نے پارٹی کی جانب سے تیقنات دیئے تھے اور عوام کے سامنے انتخابی منشور پیش کیا تھا جسے عوام نے مسترد کردیا۔ اِس لئے ذمہ داری صرف میری ہے۔ ماکن نے ادعا کیاکہ جب بھی عام آدمی پارٹی کی کارکردگی پر تنقید کی گئی عوام نے محسوس کیاکہ 49 دن کی حکمرانی کافی نہیں تھی۔ اروند کجریوال کی پارٹی کو 5 سال کا وقت دیا جانا چاہئے۔