نیمچ ۔ (مدھیہ پردیش) 26 فبروری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کے وزارت عظمیٰ امیدوار نریندر مودی نے آج مرکز کی کانگریس زیرقیادت یو پی اے حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا کہ اُس نے برقی شعبہ کی بدانتظامی کے ذریعہ اس ملک کو تاریکی کے دور میں ڈھکیل دیا ہے ۔ یہاں سے قریب بھگوان پورہ میں ملک کا سب سے بڑا سولار پاور پلانٹ قوم کے نام معنون کرنے کے بعد انھوں نے کہا کہ یو پی اے اقتدار کے دوران ایسے پاور پلانٹس جو 20,000 میگاواٹ برقی پیدا کرسکتے تھے اُنھیں بند کردیا گیا ۔ اس حکومت نے ہمیں سیاہ دور میں پہونچادیا ہے ۔ ویلسپن انرجی پرائیویٹ لمیٹیڈ کا 130 میگاواٹ پلانٹ ایک ہزار ایکڑ پر واقع ہے ۔ مودی نے ایک ریالی سے خطاب میں الزام عائد کیا کہ ملک میں کوئلہ کی مصنوعی قلت پیدا کی جارہی ہے حالانکہ اس کی وافردستیابی ہے اور
اس کے نتیجہ میں برقی کمپنیوں کو اس معدنی دولت کو درآمد کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے ۔ مودی نے کہا کہ ایسی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت دگرگوں ہے اور روپیہ کی قدر گھٹ رہی ہے ۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ ملک نے سفید اور سبز انقلابات دیکھے ہیں اور اب زعفرانی انقلاب دیکھنے کا وقت آگیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ زعفرانی انقلاب برقی کے شعبہ میں پیش آئے گا ۔ مودی نے دعویٰ کیا کہ انھیں ملک میں بی جے پی کے حق میں لہر دکھائی دے رہی ہے اور عوام اپنے مسائل کی یکسوئی کیلئے زعفرانی جماعت پر اپنا بھروسہ ظاہر کررہے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ ملک میں قدرتی وسائل کی وافر دستیابی اور توانائی سے بھرپور نوجوانوں کی موجودگی کے باوجود ملک نے یو پی اے اقتدار میں ترقی نہیں کی ۔ مودی نے شمال مشرقی خطہ کو ملک کے معاشی مراکز میں سے ایک بنانے کے جامع منصوبہ پر زور دیا۔ وہ حال میں جاریہ انتخابی مہم کے تحت اس خطہ کا ایک سے زائد مرتبہ دورہ کرچکے ہیں
اور اُن کا دعویٰ ہے کہ یو پی اے حکومت اس خطہ کو نظرانداز کررہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر گجرات نے اپنے معتبر ماتحتین کو اس خطہ کے لئے کوئی جامع منصوبہ ترتیب دینے کی ہدایت دی ہے تاکہ وہاں دستیاب تمام وسائل سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے مقامی عوام کی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔ مودی نے ہفتہ کو اس خطہ میں ریالیوں سے خطاب میں کہا تھا کہ شمال مشرق میں پانی کا بہتر انتظام وقت کی ضرورت ہے جو نہ صرف اس دیرینہ مسئلہ کو حل کردے گا بلکہ اس سے برقی بحران پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی ۔ انھوں نے شمال مشرقی ریاستوں کے چیف منسٹروں کی ایک حالیہ میٹنگ میں بھی تجویز رکھی تھی کہ 1,600 ویمن پولیس پرسونل کو گجرات بھیجا جائے تاکہ وہ اس خطہ کے عظیم کلچر اور وہاں کی ثقافت کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کرسکیں۔