کانگریس نہیں اب ’’بی جے پی مکت‘‘ بھارت کی مہم چلے گی : چدمبرم

پارٹی ورکرس کو بوتھ کی سطح پر کام کرنے کا مشورہ ۔ بی جے پی اب عوام کو مزید بے وقوف نہیں بناسکے گی
بنگلور ۔28 جولائی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے آج پارٹی ورکرس پر زور دیاکہ وہ بی جے پی کے ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کے پروپگنڈہ سے بے وقوف نہ بنیں۔ اب اگر کوئی مکت بھارت ہونا ہی ہے تو یہ ’’بی جے پی مکت بھارت ‘‘ ہوگا ۔ چدمبرم نے کہا کہ کانگریس مکت بھارت نہیں بلکہ بی جے پی مکت بھارت کے لئے مہم چلے گی ۔ سابق مرکزی وزیر نے کہاکہ عوام کی سوچ بدل رہی ہے ایک وقت ایسا تھا جب ہندوستان میں کانگریس کو ’’ناقابل چیلنج ‘‘سیاسی پارٹی قرار دیا جاتا تھا ۔ اب اس کی پرانی شان و شوکت کے احیاء کی ضرورت ہے ۔ پارٹی کو بوتھ کی سطح پر مضبوط کرتے ہوئے انتخابات لڑنے کی تیاری کرنی ہوگی ۔ ایک وقت تھا جب کانگریس وہی کام کرتی تھی جو جواہر لال نہرو ، اندرا گاندھی کے نام پر فیصلہ ہوتے تھے اس وقت لاکھوں افراد ان قائدین کے نام پر ہی بوتھ پہونچکر ووٹ دیتے تھے ۔ چدمبرم نے کہاکہ اب بوتھ واری انتخابات کا وقت ہے اس لئے ہم کو ہر بوتھ پر موجود رہنا ہوگا ۔ ہمیں ہر بوتھ میں اپنے خاطر خواہ لوگوں کو رکھنا چاہئے ۔ اب اصل معاملہ یہی ہے کہ میدان عمل میں زیادہ سے زیادہ پارٹی ورکرس سرگرم ہوجائیں۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب کانگریس ناقابل چیلنج پارٹی تھی لیکن اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں جیسا کہ دنیا بھر میں کسی بھی ملک میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ آج زیادہ سے زیادہ سیاسی پارٹی اہم رول ادا کرنے کیلئے آگے آرہی ہیں ، زیادہ سے زیادہ علاقائی پارٹیاں بھی سیاسی میدان میں موجود ہیں ان تمام کے سامنے کانگریس کو اپنے قدم مضبوط بنانے ہوں گے ۔

سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم بنگلور میں پراجکٹ ’’شکتی ‘‘ کا افتتاح کرنے کے بعد جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے ۔ سابق وزیر فینانس نے کہاکہ آج صرف دو ایسی پارٹیاں ہیں جو قومی سطح پر سرگرم ہیں ایک کانگریس ہے اور دوسری بی جے پی ۔ اب بی جے پی کو یہ موقع ہرگز نہ دیا جائے کہ وہ ہمیں بے وقوف بنائے ۔ کانگریس ورکرس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود پر بی جے پی کا پروپگنڈہ غالب ہونے نہ دیں۔ بی جے پی نے نعرہ لگایا ہے کہ ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ مگر اب کانگریسیوں کو چاہئے کہ وہ ’’بی جے پی مکت بھارت‘‘ کی مہم کے ساتھ کام کریں ۔ بی جے پی اپنے عزائم میں ہرگز کامیابی نہیں ہوگی اور ملک سے کانگریس کاصفایا کرنے میں ناکام رہے گی ۔ اگر بھارت مکت کی بات ہورہی ہے تو اب بی جے پی مکت بھارت ہی ہوگا ۔ چدمبرم نے کہا کہ بعض اوقات پارٹی مضبوط ہوتی ہے اور بعض اوقار پارٹی طاقتور نہیں ہوتی اور یہ حالات بدلتے رہتے ہیں ۔ صرف اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ہم نے گجرات میں الیکشن ہارا ، لیکن یہ ناکامی نہیں بلکہ ہم یہ انتخابات محض معمولی ووٹوں سے ہار گئے ۔ چدمبرم نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک میں کانگریس کی موجودگی بی جے پی سے زیادہ مضبوط ہے جیسا کہ پارٹی نے 38 فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ بی جے پی کو صرف 36 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ ہم کو دو فیصد زائد ووٹ ملے لیکن ہم کو 24 نشستوں کی کمی ہوئی اس لئے کانگریس ورکرس کو بوتھ واری سطح پر کام کرتے ہوئے پارٹی کے ووٹ فیصد کو بڑھانا ہوگا ۔
کانگریس نے کرناٹک میں پروگرام ’’شکتی کا آغاز کیا ہے تاکہ پارٹی کیڈرس باہم طورپر پارٹی کیلئے کام کرتے ہوئے اس کو مضبوط بنائیں۔