سابق وزیر گیتا ریڈی کا معاندانہ رویہ ، کارروائی کرنے فرید الدین کا مطالبہ
حیدرآباد 18 مارچ ( سیاست نیوز) سابق ریاستی وزیر محمد فرید الدین نے آج شام یہاں اپنی رہائش گاہ میں طلب کردہ پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے سابق وزیر ڈاکٹر جے گیتا ریڈی پر ان کے ساتھ معاندانہ رویہ رکھنے کا اَلزام عائد کیا اور کہا کہ بلدیہ ظہیر آباد کے انتخابات میں ہائی کمان کی ہدایت کے مطابق ان کے حامیوں کو حصہ لینے کیلئے 8 بی فارمس ان کے حوالے نہ کرنے کے نتیجہ میں ان کے حامیوں کی جانب سے داخل کردہ پرچہ جات نامزدگی واپس لی گئیں۔ انہوں نے ہائی کمان کی ہدایت کو نظر انداز کرنے کے علاوہ 20 ماہ تک کوئی کارروائی نہ کی گئی تو وہ اپنے سیاسی مستقبل کا لائحہ عمل اپنے حامیوں خاص کر عوام سے مشاورت کے بعد طئے کریں گے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 15 مارچ کو حیدرآباد میں ڈگ وجئے سنگھ جنرل سکریٹری کل ہند کانگریس کمیٹی کی آمد کے موقع پر انہوں نے حلقہ اسمبلی ظہیر آباد کی سیاسی صورتحال سے واقف کرایا اور ڈاکٹر جے گیتا ریڈی کے معاندانہ رویہ کی بھی شکایت کی ۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے بلدیہ، ایم پی ٹی سی ، زیڈ پی ٹی سی کے انتخابات میں ان کے گروپس کیلئے بھی بی فارمس جاری نہ کرنے کی صورت میں عام انتحابات پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے جس پر ڈگ وجئے سنگھ نے اس مسئلہ کو صدر تلنگانہ پر دیش کانگریس کمیٹی پنیالہ لکشمیا سے رجوع کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ فرید الدین کی شکایت کا جائزہ لیں ۔ صدر کانگریس نے اس خصوص میں ڈاکٹر گیتار ریڈی اور محمد فرید الدین سے بات چیت کی اور یہ طئے کیا گیا کہ 24 رکنی بلدیہ ظہیر آباد میں محمد فرید الدین کے گروپ کیلئے 8 بی فارمس اور ڈاکٹر گیتا ریڈی کے گروپ کیلئے 16 بی فارمس جاری کئے جائیں اور اس ضمن میں صدر کانگریس ضلع میدک بھوپال ریڈی کو بھی ہدایت دی گئی۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بھوپال ریڈی نے بی فارمس خود جاری کرنے کے بجائے اس کام کی ذمہ داری کارگذار صدر اتم کمار ریڈی کو سونپی۔ دریں اثناء ڈاکٹر گیتا ریڈی نے اتم کمار ریڈی سے ربط پیدا کرکے سلسلہ بلدی انتخابات میں کانگریس امیدواروں کو بی فارمس حوالے کرنے کیلئے تمام 24 بی فارمس حاصل کرنے کا تیقن دیتے ہوئے کہ وہ انہیں (فرید الدین) کو 8بی فارمس حوالے کردیں گے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر گیتا ریڈی کی اس حرکت کے خلاف اگر ہائی کمان کو ئی کارروائی نہ کرے تو اپنے سیاسی مستقبل کا لائحہ عمل طئے کریں گے ۔ اس موقع پر سرکردہ قائدین مرلی کرشناگوڑ، پی ایم کرشنا ریڈی وجئے کمار مانکیم کے بشمول سینکڑوں کی تعداد میں حامی موجود تھے۔