پارٹی پر ایک طبقہ مسلط، چیف منسٹر کے سی آر کی کارکردگی کی ستائش، عنقریب ٹی آر ایس میں شمولیت : ڈی ناگیندر
حیدرآباد ۔ 23 جون (راست) کانگریس سے مستعفی ہوجانے والے سینئر قائد ڈی ناگیندر نے ریڈی طبقہ کا نام لئے بغیر کانگریس پر ایک طبقہ کو مسلط کردینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عزت نفس کا احترام نہ رہنے والے مقام پر رہنا نہ رہنا ایک ہی ہے۔ بی سی طبقہ کو کانگریس میں یکسر نظرانداز کردیا گیا ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی کارکردگی باعث فخر ہے۔ جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں میری اطلاع کے بغیر ٹکٹ دیئے گئے وہ بہت جلد ٹی آر ایس میں شامل ہوجائیں گے۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ناگیندر نے کہا کہ وہ 30 سال تک پارٹی کیلئے سپاہی کی طرح کام کیا۔ چار مرتبہ اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے لیکن پارٹی میں نوکر کی طرح انہیں استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہی نہیں کانگریس میں موجود تمام بی سی قائدین ناراض ہیں۔ کوئی بھی اجلاس منعقد ہو ایک ہی طبقہ کے قائدین شہ نشین پر موجود رہتے ہیں۔ وہی تقریر کرتے ہیں۔ بی سی طبقات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ ڈی سرینواس اور ڈاکٹر کے کیشو راؤ کے پارٹی سے مستعفی ہونے کی وجوہات بھی یہی ہیں۔ پنالہ لکشمیا اور وی ہنمنت راؤ کو پارٹی میں کوئی اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔ 6 ماہ قبل پارٹی صدر راہول گاندھی نے بی سی طبقات کا اجلاس طلب کیا تھا۔ اس اجلاس میں بی سی طبقات کے ساتھ ہونے والی ناانصافی سے واقف کراچکے ہیں۔ کانگریس کو اقتدار حاصل کرنے کیلئے بی سی طبقات کو اہمیت دینے کی راہول گاندھی سے اپیل کرچکے تھے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں ان کی اطلاع کے بغیر ٹکٹ تقسیم کئے گئے جبکہ وہ گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس کے صدر تھے۔ اسی وقت وہ اپنا اعتراض پی سی سی صدر اتم کمار ریڈی سے بتا چکے تھے جس کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ جب کانگریس میں بی سی طبقات کیلئے کوئی اہمیت و احترام نہیں ہے تو پارٹی میں رہنا منظور نہیں ہے۔ یہ ہماری عزت نفس کا سوال ہے جس کی وجہ سے وہ کانگریس پارٹی سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ ریاست کی آبادی میں 1.67 کروڑ بی سی طبقات کے افراد کو نظرانداز کرکے کوئی بھی جماعت کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ڈی ناگیندر نے واضح کیا کہ انہیں ٹی آر ایس کی جانب سے کوئی وعدہ نہیں کیا گیا پھر بھی وہ ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں جو بھی ذمہ داری دی جائے گی اس کو بخوبی نبھائیں گے ورنہ ایک کارکن کی طرح کام کریں گے۔ انہوں نے انجن کمار یادو سے اختلافات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی کا صدر نامزد کرنے کی وہی تجویز پیش کرچکے ہیں۔ ڈی ناگیندر نے کہا کہ انہیں بھی کانگریس میں عہدہ فائنل ہوچکا ہے مگر عہدہ آنے کے بعد پارٹی سے مستعفی ہونے کے بجائے وہ پہلے مستعفی ہورہے ہیں۔ دہلی کے اطراف گھومنے والوں کو اہمیت دینے کا الزام عائد کیا۔ کانگریس میں راج شیکھر ریڈی جیسے قائد کی ضرورت پر زور دیا۔ کانگریس میں کیا ہورہا ہے۔ اتم کمار ریڈی کو بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ پی سی سی کی جانب سے ایک رپورٹ دینے پر دوسری رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔ ایک قائد کو چیف منسٹر امیدوار کی حیثیت سے نامزد کرنے پر 12 تا 13 چیف منسٹر عہدے کے دعویدار پارٹی سے دور رہتے ہیں۔ بی سی طبقات کا چیف منسٹر کے سی آر احترام کررہے ہیں۔ راج شیکھر ریڈی کے بعد سب سے زیادہ کام کرنے والے کے سی آر ہیں۔