کانگریس اور تلگودیشم پر تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ کا الزام

آبپاشی پراجکٹس کی مقررہ وقت پر تکمیل، وزیر آبپاشی ہریش راؤ کا بیان
حیدرآباد۔/22جون، ( سیاست نیوز) وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ تلگودیشم اور کانگریس نے ریاست کے ترقیاتی پراجکٹس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کوئی بھی طاقت تلنگانہ کی ترقی کو روک نہیں پائے گی اور کالیشورم پراجکٹ سمیت دیگر پراجکٹس مقررہ مدت میں تکمیل کئے جائیں گے۔ ہریش راؤ نے کریم نگر کے مختلف علاقوں میں آبپاشی پراجکٹ کے تعمیری کاموں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام سے متعلق مرکز کے اعلان کے ساتھ ہی کانگریس اور تلگودیشم نے مخالف تلنگانہ سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کے خلاف کانگریس نے مقدمات دائر کئے جبکہ چندرا بابو نائیڈو نے نئی دہلی میں نمائندگی کی۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کے خلاف مرکز سے نمائندگی کرنے والے چندرا بابو نائیڈو اس بات کی وضاحت کریں کہ کیا وہ پولاورم پراجکٹ کے کام کو روک سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سری کرشنا کمیٹی کے روبرو متحدہ آندھرا پردیش کی حکومت نے کہا تھا کہ تلنگانہ کو 954 ٹی ایم سی پانی کے استعمال کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے حق کے مطابق پانی کے استعمال کیلئے کالیشورم اور سیتا رام جیسے پراجکٹس تعمیر کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں پراجکٹس کی تعمیر مکمل کرلی جائے گی اور کوئی بھی طاقت انہیں روک نہیں پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے پراجکٹ کیلئے درکار تمام منظوریاں دے دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ترقیاتی اور فلاحی کاموں میں ملک میں سرفہرست ہے۔ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل حکومت کا بنیادی مقصد ہے اور اس سلسلہ میں تیزی سے پیشرفت کی جارہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپوزیشن کے گمراہ کن پروپگنڈہ کا شکار نہ ہوں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں مخالف تلنگانہ پارٹیوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے اور عوام نے تلگودیشم اور کانگریس کو مسترد کردیا ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس قائدین عہدے اور کرسی کیلئے آپس میں دست و گریباں ہیں وہ 2019 میں اقتدار کا خواب دیکھ رہے ہیں جو کہ پورا نہیں ہوگا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے کئی اہم قائدین ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔