رعیتو بندھو ملک کی منـفرد اسکیم، کسانوں میں امدادی رقم کے چیکس کی تـقسیم
حیدرآباد۔11 مئی (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹی راما رائو نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے کسانوں کو فصلوں کے لیے امداد سے متعلق منفرد اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ ملک کی کسی بھی ریاست میں کسانوں کی بھلائی سے متعلق اسکیمات کا تلنگانہ سے تقابل نہیں کیا جاسکتا۔ کے ٹی راما رائو نے آج اپنے اسمبلی حلقہ سرسلہ کے مختلف مقامات پر رعیتو بندھو اسکیم کے چیکس تقسیم کیے اس کے علاوہ کسانوں کو پٹہ دار پاس بک کی اجرائی عمل میں آئی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں میں کانگریس اور تلگودیشم حکومتوں نے کسانوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے۔ کسی بھی حکومت نے کسانوں کی بھلائی پر توجہ نہیں دی۔ ہر سال آفات سماوی یا کسی اور وجہ سے کسان معاشی مسائل میں مبتلا ہوتے رہے اور قرض کے بوجھ کے باعث کسانوں نے خودکشی کی۔ کے سی آر حکومت نے تین برسوں میں کسانوں کو خوش حال بنانے کا کام کیا ہے۔ کسانوں کو فی ایکڑ 4 ہزار روپئے کی امداد سے وہ فصلوں کو بہتر ادویات فراہم کرپائیں گے۔ اکثر یہ دیکھا گیا کہ خریف اور ربیع سیزن میں فصل بونے کے لیے کسانوں کو قرض حاصل کرنا پڑتا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہی کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات میں تلنگانہ ملک میں سرفہرست ہے۔ کے ٹی آر نے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ ان اسکیمات کو دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ، وہ نہیں چاہتے کہ کسان کو مسائل سے نجات ملے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور تلگودیشم کو حکومت پر تنقید کا کوئی حق نہیں کیوں کہ انہوں نے زرعی شعبہ کو نظرانداز کردیا تھا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اراضی سروے کے ذریعہ نہ صرف اراضیات کی نشاندہی کی گئی بلکہ کسانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ پٹہ دار پاس بکس جاری کیے جارہے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ جون سے اراضیات کے رجسٹریشن اب منڈل دفاتر میں کیے جائیں گے۔ کسانوں کو سب رجسٹرار آفس جانے کی زحمت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اپوزیشن کے بہکاوے میں نہ آئیں۔