کانگریس امیدوار ریونت ریڈی کی پروفیسر کودنڈا رام سے ملاقات

ملکاجگیری سے تائید کی اپیل ، ارکان اسمبلی کے انحراف کی مذمت
حیدرآباد ۔ 18۔ مارچ (سیاست نیوز) ملکاجگیری لوک سبھا حلقہ سے کانگریس کے امیدوار ریونت ریڈی نے صدر تلنگانہ جنا سمیتی پروفیسر کودنڈا رام سے ان کی قیامگاہ پہنچ کر ملاقات کی ۔ مختلف جماعتوں کی تائید حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ریونت ریڈی آج پروفیسر کودنڈا رام سے ملے اور انتخابات میں تائید کی اپیل کی ۔ ایک گھنٹہ سے زائد تک دونوں قائدین کے درمیان بات چیت رہی اور کودنڈا رام نے ملکاجگیری میں تلنگانہ جنا سمیتی کی تائید کا یقین دلایا۔ اس موقع پر ریونت ریڈی نے کہا کہ ملکاجگیری عملاً ایک چھوٹا ہندوستان ہے جہاں مختلف مذاہب ، طبقات کے افراد کے علاوہ مختلف زبانوں اور تہذیبوں سے وابستہ رائے دہندے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے منتخب ہونے پر وہ ملکاجگیری کے دیرینہ حل طلب مسائل کی یکسوئی کیلئے جدوجہد کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے صرف تلنگانہ نہیں دیا بلکہ مرکزی حکومت نے کئی وعدے کئے تھے لیکن نریندر مودی حکومت نے ان وعدوں کی تکمیل نہیں کی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ملکاجگیری میں کامیابی کیلئے کودنڈا رام کا تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کے سی آر کے اس اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ قومی پارٹی قائم کریں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ انتخابات کے بعد قومی پارٹی کے قیام سے کیا فائدہ ہوگا ۔ 16 ارکان پارلیمنٹ کے ذریعہ دہلی میں اہم رول ادا کرنے کا کے سی آر دعویٰ کر رہے ہیں لیکن گزشتہ پانچ برسوں میں 16 ارکان پارلیمنٹ کے سی آر کے ساتھ تھے، اس وقت تلنگانہ کیلئے کیا حاصل کیا گیا ۔ پروفیسر کودنڈا رام نے بتایا کہ ملکاجگیری سے ریونت ریڈی کی تائید کے مسئلہ پر پارٹی قائدین سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا ۔ اسی دوران ریونت ریڈی نے ملکاجگیری میں پارٹی کارکنوں کا اجلاس منعقد کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ انہوں نے لوک سبھا انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ نہیں کیا تھا لیکن کانگریس کے کئی ارکان اسمبلی نے انہیں مقابلہ کی ترغیب دی ۔ میں نے سبیتا اندرا ریڈی اور سدھیر ریڈی سے بھی مشورہ کیا اور دونوں نے مقابلہ کرنے کی تائید کی لیکن آج دونوں پارٹی سے دور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹی آر ایس اور اس کے کارکنوں کے خلاف نہیں ہیں ، تاہم جس انداز میں ارکان اسمبلی کو خریدا جارہا ہے ، وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ ارکان اسمبلی کا انحراف دراصل عوامی فیصلہ کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر کانگریس کی زیر قیادت حکومت تشکیل پائے گی ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر کو لوک سبھا انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ شکست اور ہار کی صورت میں ٹی آر ایس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ لوک سبھا کا الیکشن قومی مسائل پر ہوتا ہے جس کے اثرات مرکزی حکومت کی تشکیل پر پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 16 ارکان پارلیمنٹ رکھنے کے باوجود ٹی آر ایس مرکز سے تلنگانہ کو انصاف حاصل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔