کانگریس ارکان کا انحراف گھٹیا روایات کا ثبوت: بھٹی وکرامارکا

چیف منسٹر کے سی آر اپوزیشن سے خوفزدہ
حیدرآباد۔ 14 مارچ (سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے الزام عائد کیا کہ کانگریس ارکان کے انحراف کے ذریعہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو گھٹیا روایت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ تلنگانہ میں برسر اقتدار پارٹی کی راکشس پالیسی جاری ہے۔ کانگریس ارکان کے متواتر انحراف پر تبصرہ کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کے سی آر سیاسی انحراف کے ذریعہ حکومت چلارہے ہیں اور انہیں اپوزیشن سے بے حد خوف دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی آواز کو کچلنے کے لیے یہ پالیسی اختیار کی گئی کیوں کہ چیف منسٹر نہیں چاہتے کہ ان کے غیر جمہوری اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف کوئی سوال کرے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ انحراف کی تعریف کرنا دراصل بے شرمی کا مظاہرہ ہے۔ چیف منسٹر ایک طرف ملک کے لیے مثال قائم کرنے کا دعوی کرتے ہیں تو دوسری طرف انحراف کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ کیا یہی ملک کے لیے کے سی آر کی رہنمائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ واضح اکثریت کے باوجود سیاسی انحراف کی حوصلہ افزائی کرنا دیوالیہ پن کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کونسل کے انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی انحراف کا آغاز ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کے سی آر اپوزیشن سے خوفزدہ ہیں اور وہ اسمبلی میں اپوزیشن کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کارکنوں نے اپنے امیدواروں کو کامیاب بنانے کے لیے کئی قربانیاں دیں لیکن ان قربانیوں کو فراموش کرتے ہوئے ارکان اسمبلی کا ٹی آر ایس میں شامل ہونا غیر اخلاقی عمل ہے۔ انحراف دراصل عوامی فیصلے کی توہین ہے۔ عوام نے کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب کیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کے سی آر کو ذرا بھی اصولوں کا پاس و لحاظ ہو تو انہیں چاہئے کہ کانگریس کے منحرف ارکان سے استعفیٰ حاصل کرتے ہوئے انہیں دوبارہ مقابلہ کی ہدایت دیں۔