کانگریس ارکان کا انحراف لالچ کا نتیجہ: نارائن ریڈی

کے ٹی آر کے بیان کی مذمت، کانگریس امیدوار کو شکست دینے کی سازش
حیدرآباد ۔ 4۔ مارچ (سیاست نیوز) قانون ساز کونسل کے انتخابات میں کانگریس کے امیدوار اور بی سی سی کے خازن جی نارائن ریڈی نے ٹی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ کے اس بیان پر سخت تنقید کی جس میں انہوں نے کانگریس کے ارکان اسمبلی کے انحراف کی تائید کی۔ نارائن ریڈی نے کہا کہ اصولوں کی بات کرنے والی ٹی آر ایس پارٹی کس طرح کانگریس کے دو ا رکان کے انحراف کی تائید کر رہی ہے۔ انہوں نے ارکان اسمبلی اے سکو اور آر کانتا راؤ کے انحراف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں برسر اقتدار پارٹی کی جانب سے لالچ دیا گیا ہے ۔ کے ٹی آر کا کہنا ہے کہ دونوں ارکان چیف منسٹر کی پالیسیوں سے متاثر ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں۔ نارائن ریڈی نے کہا کہ دونوں ارکان کے سی آر پر انتخابی مہم میں تنقید کرتے ہوئے اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے اور اندرون 100 دن کس طرح کے سی آر کی تعریف کر رہے ہیں۔ کے سی آر اور ان کے خاندان کی مخالف پارٹی سرگرمیوں کے خلاف کانگریس کے ٹکٹ پر دونوں نے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا دونوں ارکان اسمبلی پر کے سی آر کے بارے میں کچھ قدرتی انکشافات ہوئے ہیں، جس کی بنیاد پر وہ بھجن منڈلی میں تبدیل ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کے انتخابات میں کانگریس امیدوار کی کامیابی کو روکنے کیلئے یہ سازش کی گئی ہے کہ چیف منسٹر اپوزیشن کے ارکان کو خرید رہے ہیں تاکہ انہیں شکست دے سکیں۔ نارائن ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس دستور اور قانون کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ سابق میں تلگو دیشم سے ارکان اسمبلی کی ٹی آر ایس میں شمولیت پر کے سی آر نے کوئی کارروائی نہیں کی جبکہ ٹی آر ایس سے بعض ارکان کونسل کی کانگریس میں شمولیت کے فوری بعد انہیں رکنیت سے نااہل قرار دے دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ 2014 ء سے آج تک ٹی آر ایس صرف انحراف کے ذریعہ اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ریاست کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ دیگر پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے 25 سے زائد ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کرلیا گیا ۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کانگریس کے ارکان اسمبلی کو بلیک میل کرتے ہوئے انہیں شمولیت کیلئے مجبور کیا گیا ۔