برسر اقتدار ٹی آر ایس کے 12 ارکان کی درخواست ۔ چہارشنبہ کو سماعت کا امکان
حیدرآباد ۔ 21 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کے 12 ارکان اسمبلی نے کانگریس کے 2 ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کے معاملے میں اسپیکر کے فیصلے پر ہائی کورٹ کے ایک رکنی جج کے فیصلے کو دستوری خلاف ورزی قرار دیا اور اس فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپیل داخل کی ۔ ہائی کورٹ نے اس اپیل پر چہارشنبہ کو غور کا فیصلہ کیا ۔ ٹی آر ایس ارکان اسمبلی وی پرتاپ ریڈی ، سائینا ، ایم جناردھن ریڈی ، باجی ریڈی گوردھن ریڈی ، جی کشور ، ایم سدھیر ریڈی ، ایم گوپی ناتھ ، کے پی ویکانند ، اے گاندھی ، ایم کرشنا راؤ ، کے یادیا اور رویندر کمار نے ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی ۔ ان ارکان اسمبلی نے اپیل میں بتایا کہ سنگل جج کا فیصلہ اسمبلی کے فیصلے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ۔ اسمبلی کے فیصلے پر عدالت کی مداخلت درست نہیں ہے ۔ بجٹ سیشن کے موقع پر گورنر کے خطبہ کے دوران ، غیر قانونی مظاہرہ کرنے والے کانگریس ارکان اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار کی اسمبلی رکنیت منسوخ کرنے کی قرار داد منظور کی گئی ۔ قرار داد کے مطابق اسپیکر اسمبلی کے فیصلے پر ہائی کورٹ کا اختلاف ایوان اسمبلی کے اختیارات کی خلاف ورزی میں شمار ہوتا ہے ۔ پارلیمانی نظام میں اسمبلی کو جو اختیارات سے اس کا احترام کرے بغیر ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے ۔ دستور کے 194(3) ایکٹ کے تحت ایوان کے احترام کو ٹھیس پہونچانے والے ارکان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ۔ اسمبلی کو جو اختیارات ہے اس سے استفادہ کیا گیا ہے ۔ جن ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کی گئی ہے وہ قصور وار ہے ۔ گورنر کے خطبہ کے دوران انہوں نے جو حرکت کی ہے وہ اس کے گواہ ہیں اس کا جائزہ لیے بغیر ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے ۔ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار کی جانب سے داخل کردہ رٹ پٹیشن میں دوسرے فریق سکریٹری اسمبلی کی جانب سے سماعت کے دوران عدالت میں کوئی حاضر نہ ہونے پر آڈورس انفرنسس (کوئی حاضر نہ ہونے اور ثبوت پیش نہ کرنے پر لیا جانے والا فیصلہ ) کے طور پر سنگل جج نے جو احکامات جاری کئے وہ درست نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیول معاملت میں آڈورس انفرنسس کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔ ٹی آر ایس کے 12 ارکان اسمبلی کے وکیل رویندر ریڈی نے ہائی کورٹ کے عارضی چیف جسٹس رمیش رنگناتھن ، جسٹس وجئے لکشمی پر مشتمل بنچ پر اپیل داخل کی ۔ جس پر چہارشنبہ کو غور کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔