حیدرآباد ۔ 26 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : سربراہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی مسٹر جگن موہن ریڈی نے کہا کہ کانگریس ، بی جے پی ، تلگو دیشم اور ٹی آر ایس نے ایک دوسرے سے میچ فکسنگ کرتے ہوئے ریاست کو تقسیم کردیا ۔ مگر وہ تلگو عوام کو تقسیم کرنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے ۔ متحدہ آندھرا نعرے کے ساتھ ہی علاقے تلنگانہ میں داخل ہونے کا اعلان کیا ۔ سیاسی مفادات کی خاطر کشیدہ ماحول میں انتخابات کرانے کا الزام عائد کیا ۔ پارٹی کارکنوں کے تربیتی کلاسیس کے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی تقسیم سے تلگو عوام کو نقصان ہے ۔ ملک میں تلگو عوام دوسری بڑی قوم تھی ۔ جس کے لوک سبھا میں 42 ارکان پارلیمنٹ تھے جو مرکز پر دباؤ ڈال کر ریاست کی ترقی میں ایک اہم رول ادا کرسکتے تھے ۔
لیکن ایک منظم سازش کے تحت حکمران کانگریس اپوزیشن بی جے پی تلگو دیشم اور ٹی آر ایس نے صرف اور صرف سیاسی مفادات کی غرض سے ایک دوسرے سے ساز باز کرتے ہوئے اسمبلی میں مسترد کردہ بل کو پارلیمنٹ میں سیما آندھرا کی نمائندگی کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کو بے دخل کرتے ہوئے تلنگانہ بل کو منظور کیا گیا ہے اور لوک سبھا کی راست ٹیلی کاسٹ کو بند کرتے ہوئے عوام کو تاریک میں رکھا گیا ہے ۔ جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو متحد رکھنے کے لیے وہ لمحہ آخر تک جدوجہد کرتے رہے مگر میچ فکسنگ کی وجہ سے ریاست تقسیم ہوگئی ۔ ہر پارٹی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے درمیان پہونچنے کے بجائے تلنگانہ کو موضوع بناتے ہوئے عوام میں داخل ہورہے ہیں ۔ کانگریس پارٹی تلنگانہ کے وعدے کو پورا کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے تلنگانہ کی چمپئن بننے کی کوشش کررہی ہے جب کہ سیما آندھرا کو پیاکیج دینے کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ بی جے پی نے لوک سبھا میں تلنگانہ بل کی غیر مشروط تائید کی ۔
تاہم راجیہ سبھا میں چند ترمیمات پیش کرتے ہوئے سیما آندھرا کے عوامی مسائل پر مگرمچھ کے آنسو بہانے کا الزام عائد کیا ۔ چندرا بابو نائیڈو تلنگانہ میں اپنے مکتوب سے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کا دعویٰ کررہے ہیں اور سیما آندھرا کو سنگاپور کی طرز پر ترقی دینے کا اعلان کررہے ہیں ۔ ریاست کی تقسیم سے تلگو عوام کا نقصان ہوگا ۔ مسٹر جگن موہن ریڈی نے چاروں جماعتوں پر غیر اخلاقی اتحاد کرتے ہوئے جمہوریت کا خون کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ علاقے تلنگانہ میں بھی وائی ایس آر کانگریس پارٹی رہے گی اور راج شیکھر ریڈی کے سنہری دور کا احیاء کرنے کے لیے وہ علاقے تلنگانہ میں بھی بہت جلد پرسہ یاترا کا آغاز کریں گے ۔ جن لوگوں نے میرے والد پر جان نچھاور کی ہے وہ ان لوگوں سے علاقے تلنگانہ میں بہت جلد ملاقات کریں گے ۔۔