کانپور میں دینی مدرسہ کے افتتاح پر تنازعہ

کانپور۔/9ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک دینی مدرسہ کی تعمیر اور عصری بنانے کے منصوبہ کا بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کے ذریعہ افتتاح کی اطلاعات پر تنازعہ پیدا ہوگیاجبکہ مسلم برادری نے شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے یہ تقریب منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ مدرسہ کے پرنسپال محمد معراج نے بتایا کہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے ہاتھوں افتتاح پر مسلم طبقہ ناراض ہے لیکن اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کیلئے وہ بہت جلد شہر کے قاضی سے ملاقات کریںگے تاہم اس منصوبہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ مرلی منوہر جوشی کے حلقہ کے علاقہ شیام نگر میں واقع مدرسہ جمعیتہ النوریہ کو عصری بناتے ہوئے آئندہ ماہ جنوری تک تعمیر جدید مکمل کرلینے کا منصوبہ ہے جس کی اطلاع پر مسلمانوں کے ایک گروپ نے پرنسپال سے رجوع ہوکر منوہر جوشی کے ہاتھوں مدرسہ کے افتتاح پر اعتراض کیا

اور یہ الزام عائد کیا کہ بابری مسجد کے انہدام کیلئے وہ ( جوشی ) بھی ذمہ دار ہیں اور ان کی پارٹی لیڈروں نے سابق میں کہا تھا کہ دینی مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ قاضی عالم رضا نے بتایا کہ انہوں نے مدرسہ کے پرنسپال سے ملاقات کرکے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کو افتتاحی تقریب میں مدعو کرنے کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں سیاسی شخصیت کے ذریعہ مدرسہ کا افتتاح نہیں کروانا چاہیئے اور اس خصوص میں بہت جلد ایک اجلاس منعقد کرکے فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم یہ مدرسہ پہلے ہی سے تنازعہ کا شکار ہوگیا ہے کیونکہ مقامی بی جے پی لیڈروں کو یہ اطلاع ملی ہے کہ مذکورہ مدرسہ کا قبل ازیں افتتاح ہوچکا ہے لیکن جب یہ معلوم ہوا کہ افتتاح کی اطلاع جھوٹی ہے مرلی منوہر جوشی نے آئندہ ماہ جنوری میں دورہ کانپور کے موقع پر مدرسہ کے افتتاح سے اتفاق کرلیا ہے۔