برسبین ، 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج اپنے آسٹریلیائی ہم منصب ٹونی ایبٹ اور امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ ایک امریکی آرکیٹکٹ کی دلچسپ کارگزاری کے تعلق سے بات کی، جس کا اُن کے ملکوں سے جذباتی ربط ہے۔ ان قائدین کے مابین گفتگو جو یہاں G20 سمٹ کیلئے جمع ہیں، والٹر برلی گریفن پر مرکوز رہا، جو معروف امریکی آرکیٹکٹ ہیں جنھوں نے آسٹریلیائی دارالحکومت کینبرا کی ڈیزائننگ کی تھی اور جو لکھنو میں مدفون ہیں۔ وزیراعظم نے ایبٹ اور اوباما کے ساتھ تبادلہ خیال میں گریفن کے مسحور کن کارنامے کے تعلق سے بات کی، وزارت امور خارجہ ترجمان سید اکبر الدین نے ٹوئٹر پر یہ بات بتائی۔ اس گفتگو میں محو تینوں قائدین کی ایک دو تصاویر بھی ترجمان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پیش کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک تصویر لکھنو کرسچن سیمٹری میں گریفن کی ابدی خواب گاہ کی ہے۔ گریفن جو 11 فبروری 1937ء کو بعمر 61 سال انتقال کرگئے، وہ لینڈ اسکیپ آرکیٹکٹ تھے اور ان کا تعلق امریکہ سے تھا۔ وہ آسٹریلیا کے دارالحکومت شہر کینبرا کی ڈیزائننگ سے مشہور ہوئے اور L نہج کے فلور پلان کا فروغ اُن ہی کا مرہون منت ہے۔ شکاگو کے پریری اسکول میں پروان چڑھنے والے گریفن نے منفرد ماڈرن اسٹائل تیار کیا تھا۔ انھوں نے اپنی اہلیہ ماریون ماہونی گریفن کے ساتھ شراکت میں کام کیا۔ 28 برسوں میں دونوں نے زائد از 350 عمارتوں کی ڈیزائننگ کی، لینڈاسکیپ اور اربن ڈیزائن کے پراجکٹس کے ساتھ ساتھ کنسٹرکشن کے مٹیریلس وغیرہ بھی ڈیزائن کئے تھے۔