عنقریب اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل، روایتی اور تکنیکی یونیورسٹیز کیلئے یکساں قانون
حیدرآباد ۔ 28 جولائی (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ ریاستی کونسل برائے اعلیٰ تعلیم مسٹر ٹی پاپی ریڈی نے کہا کہ ریاست میں ’’کامن یونیورسٹی سسٹم‘‘ لانے کیلئے موجودہ یونیورسٹیز قانون میں تبدیلی کیلئے بہت جلد ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سال 1982ء میں مرتب کردہ تعلیمی قانون کے مطابق ریاست میں مختلف یونیورسٹیز کے قوانین بنالئے گئے۔ روایتی یونیورسٹیز، ٹیکنیکل ایجوکیشن یونیورسٹیز، اگریکلچرل یونیورسٹیز، ہارٹیکلچرل یونیورسٹیز اور ہیلت یونیورسٹیز کے فی الوقت ہر ایک کیلئے الگ قانون ہے۔ لہٰذا موجودہ حالات میں ایک ہی نوعیت کے یونیورسٹیز کیلئے ایک ہی قانون مرتب کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ اسی کے ایک حصہ کے طور پر کئے جانے والے اقدامات پر تفصیلی غوروخوض کرنے اور مناسب سفارشات کرنے کیلئے چار پانچ یوم میں قانون بنایا جائے گا۔ صدرنشین کونسل نے کہا کہ موجودہ قوانین میں بعض ضروری ترمیمات کی شدید ضرورت ہے۔ تلگو یونیورسٹی کے تحت پائے جانے والے بعض کورسیس کو جے این اے ایف اے یو کے تحت لانے کے علاوہ آر جی یو کے ٹی کیلئے چانسلر کی حیثیت سے گورنر اپنے یا کسی اور کو رکھنے جیسے امور کی وضاحت کرتے ہوئے قوانین مرتب کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کی تشکیل کے بعد اندرون ایک ماہ کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔