نئی دہلی ۔ 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانیوں کی جانب سے بیرون ملک جمع کئے ہوئے کالے دھن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی مستقل طور پر کوشش جاری ہے جس کے نتیجہ میں نتائج برآمد ہوئے ہیں جیسے کہ جرمانے عائد کئے گئے ہیں اور فوجداری عدالتوں میں بعض شکایتیں درج کروائی گئی ہیں۔ وزیرمملکت برائے فینانس جینت سنہا نے راجیہ سبھا میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بجٹ تقریر 2015ء میں ایک جامع نئے ٹیکس نظام کی قانون سازی کا تذکرہ کیا ہے تاکہ بیرون ملک جمع کالے دھن کے مسئلہ سے نمٹا جاسکے۔ حکومت نے ایک تحقیق کا بھی آغاز کیا ہے تاکہ غیرمحسوب آمدنی اور اندرون و بیرون ملک دولت کے بارے میں تخمینہ لگایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سرکاری تخمینہ کے بموجب بیرون ملک بھاری مقدار میں کالا دھن جمع ہے۔ سنہا نے کہا کہ حکومت کے تین اقدامات کے ذریعہ جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کا تجزیہ کیا جارہاہے۔ اس سوال پر کہ یہ رقم کب ہندوستان واپس لائی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہیکہ کونسی تاریخ تک بیرون ملک جمع کالا دھن وطن واپس لایا جائے گا۔ اس سوال پر کہ کیا حکومت خاطی افراد اور اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حقائق اور ان کے بارے میں مختلف ثبوت حاصل ہوجانے پر ایسا یقینا کیا جائے گا۔