کالے دھن کی لعنت سے نمٹنے تمام ممالک سے اپیل

لندن ۔3نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کالا دھن دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جانے کا یقین ظاہر کرتے ہوئے این آر آئی صنعت کار لارڈ سوراج پال نے کہا کہ بیشتر ممالک اس خطرے کو محسوس کررہے ہیں اور انہیں چاہیئے کہ اس لعنت سے نمٹنے کیلئے متحدہ طور پر کوشش کریں ۔ کالے دھن کو جو ہندوستانیوں نے بیرونی ملک جمع کر رکھا ہے ہندوستان کی نئی حکومت کی جانب سے واپس لانے کی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے 83سالہ لارڈ پال نے کہا کہ پوری دنیا میں تعاون کا تیقن دیا ہے ۔ یہ صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ رقم دہشت گردی کیلئے استعمال کی جارہی ہے جس سے تمام ممالک متاثر ہوں گے ۔ یہ صرف ایک دن یا ایک سال کا معاملہ نہیں ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستان دیگر کئی جمہوریتوں کی بہ نسبت زیادہ طویل مدتی جمہوریت ہے ۔ کہا کہ ممکن ہے کہ ہندوستان میں مغربی ممالک کی طرز کی جمہوریت نہ ہو لیکن اگر تاریخ ہند کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ برطانیہ میں جمہوریت کے قیام سے کافی عرصہ پہلے ہندوستان میں پنچایتیں منتخب کی جاتی تھیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس علاقہ کا واحد ملک ہے جس نے اپنی جمہوریت برقرار رکھی ہے ۔ آزادی کے بعد سے مسلسل انتخابات ہوتے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ انہیں انتہائی رنج ہوتا ہے کہ حکومت ہند کے پاس مجوزہ مہاتما گاندھی کے مجسمہ کو پارلیمنٹ اسکوائر میں نصب کرنے کیلئے معمولی سی رقم بھی موجود نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس رقم نہیں تھی تو اتنی دھوم دھام سے چانسلر جارج آسبارن نے اور اُس وقت کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے دورہ ہند کے موقع پر اس مجسمہ کی تنصیب کا اعلان کیوں کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اُن کو غلط نہ سمجھا جائے ‘ انہیں خوشی ہے کہ مہاتما گاندھی کا مجسمہ ایک ایسے مقام پر نصب کیا جائے گا جہاں لوگوں میں جمہوریت اور آزادی کیلئے جدوجہد کی ہے ۔ یہ مجسمہ یہیں نصب کیا جانا چاہیئے کیونکہ یہ ایک مرکزی مقام ہے لیکن حکومت برطانیہ کی جانب سے رقم نہ ہونے کے اعلان پر انہیں صدمہ پہنچاہے ۔