کالے دھن کو واپس لانے میں تعاون کیلئے جی 20 ممالک پر مودی کا زور

برسبین۔ 16؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ بیرون ملکوں میں رکھے گئے کالے دھن کو واپس لانے کے لئے ہندوستان کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے ہر ایک ملک سے خاص کر ٹیکس سے بچنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ معاہدہ کے تقاضوں کے مطابقت میں ٹیکس تجاویز کے لئے معلومات فراہم کریں۔ کالے دھن کے مسئلہ کو اُٹھاتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے جی 20 گروپ کی چوٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی و بڑے اُبھرتے ہوئے معاشی دُنیا کے ملکوں کو چاہئے کہ وہ کالے دھن کے درپیش چیلنج سے نمٹنے کے لئے ایک دوسرے کا تعاون کریں۔ مودی نے ٹیکس معلومات کی فراہمی میں خودکار معلومات کے تبادلہ پر ایک نئے عالمی معیار کو وضع کرنے کی ہندوستان کی حمایت کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ غیر محسوب دولت کو بیرونی بینکوں میں رکھا گیا ہے، اس کا پتہ چلانے کے لئے معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے معلومات کے تبادلوں کے لئے ہندوستان کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے پلینری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس پالیسی اور نظم و نسق میں باہمی تعاون اور معلومات کا تبادلہ ضروری ہے۔ انھوں نے عالمی معیشت کی افادیت پر دوسرے اور آخری مرحلہ کے اجلاس میں کہا کہ تمام رکن ملکوں کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔ برسبین کے ایگزیبیشن و کنونشن سنٹر پر منعقدہ کانفرنس میں مودی نے سرمایہ اور ٹکنالوجی میں اضافہ کرنے کی صلاحیتوں سے ٹیکس چوری سے بچنے کے لئے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انھوں نے عالمی سطح پر ایک ایسے مرکز کے قیام کی بھی تجویز پیش کی جس کی مدد سے توانائی کی تلاش اور ترقی کے لئے کام آسکے۔

جی 20 گروپ کو اس سلسلہ میں آگے آنا ہوگا۔ یہ گروپ دُنیا کی 20 بڑی معیشتوں پر مشتمل ہے۔ اس کے ارکان میں ارجنٹینا، آسٹریلیا، برازیل، کناڈا، چین، فرانس، جرمنی، ہندوستان، انڈونیشیاء، اٹلی، جاپان، میکسیکو، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا، ترکی، برطانیہ، امریکہ اور یوروپی یونین شامل ہیں۔ جی 20 ممالک نے ہندوستان اور دیگر ترقی پذیر ملکوں کی تشویش کا جائزہ لیتے ہوئے آج اس بات کا عہد کیا کہ وہ ان ملکوں کو درپیش مسائل کی یکسوئی کے لئے مضبوط عملی اقدامات کریں گے۔ جی 20 قائدین نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں بھی کوٹہ اصلاحات کے سُست روی سے جاری اقدامات پر بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔