کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر سے چندرا بابو نائیڈو کو اعتراض کیوں ؟

وزیر آبپاشی ہریش راؤ کا سوال، پراجکٹس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا افسوسناک

حیدرآباد۔/23 جون، ( سیاست نیوز) وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے کالیشورم پراجکٹ کو روکنے کیلئے آندھرا پردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے مرکزی حکومت سے نمائندگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے سوال کیا کہ ہم کالیشورم پراجکٹ تعمیر کررہے ہیں تو اس سے چندرا بابو نائیڈو کو کیا نقصان ہے یہ بات ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائیڈو کو پراجکٹ کی مخالفت کرنے سے پہلے آندھرا پردیش کے اعتراضات عوام کے روبرو پیش کرنے ہوں گے۔ ہریش راؤ نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے کالیشورم پراجکٹ کیلئے تمام درکار منظوریاں جاری کردی ہیں اور کوئی بھی طاقت پراجکٹ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش حکومت کو تلنگانہ کے پراجکٹس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کے بجائے اپنے پراجکٹ کی تکمیل پر توجہ دینی چاہیئے۔ حکومت کی اولین ترجیح عوام کی فلاح و بہبود ہو لیکن کسی دوسری ریاست کے پراجکٹس میں رکاوٹ پیدا کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کیلئے مشن کاکتیہ اور مشن بھگیرتا کے تحت کئی پراجکٹس زیر تکمیل ہیں۔ ایک کروڑ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کیلئے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سے مانگ کی گئی کہ کالیشورم کو قومی پراجکٹ کا درجہ دیتے ہوئے مناسب فنڈز جاری کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پراجکٹس کے تعمیری کاموں کا بذات خود جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ مدت میں پراجکٹس کی تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ مشن بھگیرتا کے تحت ہر گھر کو صاف پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گوداوری کے پانی میں تلنگانہ کی حصہ داری 954 ٹی ایم سی کی ہے اور تلنگانہ کو اس کے حق سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ دریاؤں کے پانی پر اپنی حصہ داری کے سلسلہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کیلئے کے سی آر حکومت کی اسکیمات ملک بھر میں مثالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کیلئے فی ایکر 4 ہزار روپئے کی امداد اور کسانوں کیلئے انشورنس اسکیم کے سی آر کا کارنامہ ہے۔ ملک کی تاریخ میں آج تک کسی بھی حکومت نے اس طرح کی منفرد اسکیمات شروع نہیں کی۔