کالا دھن مسئلہ : ہند۔ سوئیٹزرلینڈ تعاون کا تیقن

برن۔8فبروری( سیاست ڈاٹ کام) کالادھن مسئلہ پر دباؤ کے تحت سوئیٹزرلینڈ نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا جب کہ باہمی تعلقات بینک کھاتوں کی تفصیلات سے واقف کروانے کے مسئلہ پر ہنوز کشیدہ ہے ۔ ایک مشکل ماحول اور معلومات میں شراکت داری کے بارے میں اختلافات کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے ۔ سوئیٹزرلینڈ کی حکومت نے ہندوستان کے ساتھ اعلیٰ سطحی معاہدہ کی عکاسی کرتے ہوئے اپنی حالیہ سالانہ رپورٹ میں جو بین الاقوامی مالیتی اور ٹیکس معاملات کے بارے میں ہے کہا کہ سوئیٹزرلینڈ ہندوستان کو اپنے چار اہم شراکت داروں میں سے ایک سمجھتا ہے ‘ جن کے ساتھ 2014ء کے دوران ٹیکس معاملات میں بھرپور تعاون کیا گیا ہے ۔ ہندوستان کے علاوہ اس مسئلہ پر دیگر ممالک فرانس ‘ اٹلی اور امریکہ کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ سوئیٹزرلینڈ طویل عرصہ سے بینکنگ معاملات کو راز میں رکھنے کیلئے شہرت رکھتا تھا اُس پر شدید عالمی دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ دنیا بھر میں ناجائز سرمایہ کی منتقلی کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہے ۔

سوئس بینکس میںخفیہ کھاتے رکھنے والے اپنے شہریوں کے بارے میں علم ہوجانے پر ہندوستان سوئیٹزرلینڈ سے تفصیلات حاصل کرنے کا خواہاں ہے لیکن اس کی اکثر درخواستیں سوئیٹزرلینڈ نے مسترد کردی ہیں ۔ بعدازاں ہندوستان نے اپنے حکمت عملی تبدیل کردی اور آزادانہ ثبوتوں کی بنیاد پر جو کالا دھن سوئس بینکوں میں جمع کرنے کے بارے میں دستیاب ہیں سوئیٹزرلینڈ سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ حکومت سوئیٹزرلینڈ اب ہندوستان کے ساتھ تفصیلی معلومات میں شراکت داری کیلئے راضی ہوگئی ہے ۔گذشتہ ماہ ہندوستان کے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے مرکزی وزیر فینانس سوئیٹزرلینڈ ایولین ویڈمیر شلمپ سے ملاقات کر کے عالمی معاشی فورم کے سالانہ اجلاس منعقدہ ڈاؤس کے موقع پر تبادلہ خیال کیا تھا ۔ ارون جیٹلی 26مئی 2014ء کو اپنا عہدہ سنبھالا ہے ‘ وہ ایک ایسے وقت حکومت میں شامل ہوئے ہیں جب کہ حکومت ٹیکس چوری اور دھوکہ دہی کے خلاف اپنی جنگ میں شدت پیدا کررہی تھی ۔

خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں ایس آئی ٹی قائم کی گئی تھیں اور انہیں بیرون ملک ہندوستانی شہریوں کے اثاثہ جات کو اُجاگر کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی ۔ سوئیٹزرلینڈ کی جانب سے تفصیلات ظاہر کرنے سے انکار کے بعد ہند۔ سوئیٹزرلینڈ تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے ۔ مشکل حالات کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلارکھا گیا تھا ۔برن میں 15اکٹوبر 2014ء کو ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں سازگار ماحول پیدا ہوا اور اختتام پر باہمی مسائل پر تبادلہ خیال کرنے سے اور ان کی یکسوئی سے اتفاق پر مبنی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا ۔ حکومت سوئیٹزرلینڈ نے اس پس منظر میں اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ وزیرفینانس سوئیٹزرلینڈ ایک مستحکم ‘ مسابقتی اور بین الاقوامی سطح پر قابل قبول مالی مرکز اور بزنس کا مقام اپنے ملک کو بنانا چاہتی ہیں۔