نئی دہلی ، 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) بیرون ملک رکھا گیا کالادھن مجوزہ سخت قانون کے تحت 10 سال قیدبامشقت اور غیرمعمولی 90 فیصد ٹیکس عائد کرے گا جبکہ یہ قانون مرتکبین کیلئے محدود موقع فراہم کرتا ہے کہ غیرقانونی دولت کا انکشاف کرتے ہوئے مقدمہ بازی سے بچ جائیں۔ اپنے بجٹ وعدہ پر عمل درآمد کرتے ہوئے وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج لوک سبھا میں 88 فقرے والا بل متعارف کرایا جو بیرون ملک پوشیدہ رکھے گئے کالے دھن اور اثاثہ جات کا پتہ چلانے کی سعی ہے، جو ایسا مسئلہ ہے جس کے خلاف بی جے پی اور نریندر مودی نے لوک سبھا انتخابات کے دوران مہم چلائی تھی۔ ’غیرمنکشف بیرونی آمدنی اور اثاثہ جات (ٹیکس کا نفاذ) بل 2015ء‘ جو یکم اپریل 2016ء سے نافذ العمل لانے کی تجویز ہے، 30 فیصد کی یکساں شرح پر ٹیکس عائد کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے، جس میں کوئی استثنا، منہائی اور انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت روا نقصانات کو آگے لیجانے کی گنجائش نہیں ہوگی۔ یہ بل بیرون ملک غیرمصرحہ آمدنی پر علحدہ ٹیکس عائد کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ جیٹلی نے کہا کہ محدود مدت کیلئے مرتکبین کو حلفنامہ داخل کرتے ہوئے 30 فیصد ٹیکس اور اتنی ہی رقم بطور پنالٹی ادا کرنے کا موقع رہیگا۔