نئی دہلی 21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے خبردار کیا کہ کالا دھن عالمی و امن و یکجہتی کو غیر مستحکم کرسکتا ہے اس لئے تمام جمہوری ملکوں کو اس لعنت کے خلاف متحدہ جدوجہد کرناچاہئے ۔ یہ کسی خاص ملک کو متاثر نہیں کرات بلکہ اس کی زد میں تمام ملک آتے ہیں۔ اپنے بیرونی دورہ سے واپسی کے ایک دن عبد جس کے دوران انہوں نے آسٹریلیںا میں جی 20 چوٹی کانفرنس میں کالے دھن کا مسئلہ اٹھایا تھا ۔ مودی نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ ہندوستان نے عالمی برادری کے سامنے کالے دھن کی خرابیوں اور اثرات کے مسائل پیش کئے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ عالمی برادری نے کالے دھن کے تعلق سے ہندوستان کے موقف کی حمایت کی ہے اور ان کی بات پر گہرائی سے توجہ دی ہے کیوں کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے کوئی ایک خاص ملک متاثر نہیں ہوگا بلکہ تمام ملکوں کو اس لعنت کا شکار ہونا پرے گا ۔ انہو ںنے خبردار کیا کہ کالے دھن کی لعنت سے عالمی امن و یکجہتی کو خطرہ ہے ۔ کالے دھن کے ذریعہ ہی دہشت گردی ،
رقومات کی غیر قانونی منتقلی اور منشیات کی تجارت ہوتی ہے ۔ اس لعنت کے خلاف متحدہ عالمی جدوجہد پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریتوں کو قانون کی حکمرانی پر سختی سے عمل آوری کے لئے کام کرنا ہوگا ۔ یہ ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اس دشمن کا مقابلہ کریں ۔ 203 پلیٹ فارم سے بہتر کوئی موقع نہیں تھا جس میں کالے دھن کے مسئلہ کو اٹھایا گیا تھا ۔ انہوں نے جی 20 کانفرنس کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری کوششوں کی وہ سے اس مسئلہ پر جی 20 چوٹی کانفرنس کے سرکاری اعلامیہ میں واضح تذکرہ کیا گیا ہے۔ نریندر مودی جنہوں نے مائنمار آسٹریلیا اور فیجی کے 10 روزہ دورہ کے دوران پانچ چوٹی کانفرنسوں میں شرکت کی اور 38 عالمی قائدین سے ملاقات کی تھی کہا کہ میں نے ایک چیز کو نوٹ کیا ہے کہ اب ساری دنیا کی نگاہیں ہندوستان پر ٹکی ہوئی ہیں اور ہندوستان کو ساری دنیا کی نظروں میں محترم و عزت کا مقام حاصل ہے۔