’’کاش ہائی کمان کی سنتے تو یہ حشر نہ ہوتا ‘‘

دہلی سے کونسل کیلئے مقابلہ سے گریز کا مشورہ نظر انداز، ارکان اسمبلی کے انحراف کے بعد سینئر قائدین کو احساس

حیدرآباد ۔ 11۔ مارچ (سیاست نیوز) ’’کاش ہائی کمان کی سنتے تو یہ حشر نہ ہوتا‘‘۔ کانگریس پارٹی کے سینئر قائدین کی زبان سے آج یہ جملہ ادا ہورہا ہے کیونکہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں اعلیٰ کمان نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ پارٹی ارکان اسمبلی کے متواتر انحراف کو دیکھتے ہوئے کانگریس نے کل 12 مارچ کو کونسل کی رائے دہی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ جس دن سے کانگریس نے اپنا امیدوار میدان میں اتارا ، ابھی تک 4 ارکان اسمبلی استعفیٰ کا اعلان کرچکے ہیں اور مزید دو برسر اقتدار پارٹی سے ربط میں ہیں۔ ایسے میں مزید انحراف کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ صورتحال تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے لئے تشویش کا باعث بن چکی ہے ۔ لوک سبھا انتخابات سے عین قبل ارکان اسمبلی کا انحراف پارٹی کیلئے بڑا نقصان تصور کیا جارہا ہے کیونکہ اسمبلی کی شکست سے پارٹی ابھی ابھر نہیں پائی تھی۔ پارٹی کی کوشش تھی کہ موجودہ 19 ارکان کو متحد رکھتے ہوئے لوک سبھا میں کم از کم 4 تا 5 حلقوں سے کامیابی کو یقینی بنایا جائے لیکن برسر اقتدار پارٹی نے انحراف کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کانگریس کو زبردست دھکا دیا ہے۔ اب جبکہ پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان ہوگیا ، قائدین کی زبان سے افسوس کے ساتھ یہ جملے سنائی دے رہے ہیں کہ اگر ہائی کمان کے مشورہ کو تسلیم کیا جاتا تو شائد یہ دن دیکھنا نہ پڑتا ۔ پارٹی کے ارکان منحرف نہ ہوتے ۔ بھلے ہی وہ اندرونی طور پر ٹی آر ایس سے ربط میں ہوں لیکن کھل کر انحراف سے گریز کرتے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ قائدین کے ساتھ نئی دہلی میں منعقدہ اجلاس میں ہائی کمان نے اتم کمار ریڈی اور دیگر قائدین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کونسل کے انتخابات میں حصہ لینے سے گریز کریں۔ ٹی آر ایس کی جانب سے پانچ امیدواروں کے اعلان کے فوری بعد ہائی کمان نے یہ مشورہ دیا تھا ۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری انچارج تنظیمی امور کے سی وینو گوپال اور راہول گاندھی کے سیاسی مشیر کے راجو نے پردیش کانگریس کی قیادت سے کہا کہ وہ کونسل کے انتخاب کو اپنی انا کا مسئلہ بنانے سے گریز کریں۔ کے سی آر نے جب اپنے چار اور حلیف جماعت کے ایک امیدوار کو کامیاب بنانے کی ٹھان لی ہے تو وہ یقینی طور پر کانگریس کے ارکان کو خریدیں گے ۔ ان حالات میں کانگریس کو مایوسی کے سواء کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ، لہذا بہتر یہی ہے کہ مقابلہ سے گریز کیا جائے ۔ ہائی کمان کے اس مشورہ کو پردیش کانگریس کے قائدین نے یہ کہتے ہوئے قبول نہیں کیا کہ ہمارے پاس ایک نشست پر کامیابی کے لئے عددی طاقت موجود ہے۔ وہ دراصل پارٹی کے 19 اور تلگو دیشم کے دو ارکان کی تائید کا دعویٰ کر رہے تھے۔ ہائی کمان نے اس معاملہ کو آخرکار ریاستی قائدین پر چھوڑ دیا اور جیسے ہی پارٹی نے نارائن ریڈی کو اپنا امیدوار بنایا ، دوسرے ہی دن سے انحراف کا سلسلہ شروع ہوگیا جو ابھی تک جاری ہے۔ پارٹی کے سینئر قائدین اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ اگر ہائی کمان کے مشورہ کو تسلیم کرلیا جاتا تو آج کارکنوں کے حوصلے پست نہ ہوتے کیونکہ پارٹی نے مجبوری کی حالت میں آخر کار رائے دہی کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے ۔ اگر مقابلہ نہ کیا جاتا تو کم از کم اخلاقی طور پر کانگریس کی جیت تصور کی جاتی اور وہ عوام کو یہ کہنے کے موقف میں ہوتی کہ ٹی آر ایس نے جمہوری اصولوں کو پامال کردیا ہے، جس کے تحفظ کیلئے وہ مقابلہ سے گریز کر رہے ہیں۔