کارگل جنگ میں استعمال شدہ رائفلز سے فائرنگ

حیدرآباد ۔ /14 مئی (سیاست نیوز) کشن باغ عرش محل میں پیش آئے فرقہ وارانہ تشدد میں بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی گولیوں کا نشانہ بنے نہیتے مسلمان کیا دہشت گرد یا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھے ۔ عوام کا سوال ہے کہ کیوں نہیتے مسلمانوں پر بی ایس ایف نے اپنی جدید ٹکنالوجی والی رائفلیں استعمال کرتے ہوئے ان کی جان لے لی ۔ بی ایس ایف جو ہندوستان کا ایک نیم فوجی دستہ ہے جسے اکثر ملک کے سرحدی علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے اور انہیں جدید ٹکنالوجی والی (INSAS) انساز رائفلز فراہم کی جاتی ہیں ۔ انساز رائفلز کو نیم فوجی دستوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوئی 1999 ء کی کارگل جنگ میں استعمال کیا تھا ۔

اس رائفل کی گنجائش کے ذریعہ ایک منٹ میں 600 گولیوں کے راؤنڈس چلائے جاسکتے ہیں جبکہ اس کی حد 500 میٹر بتائی جاتی ہے ۔ فرقہ وارانہ فسادات میں سائبرآباد کے ایک سینئر پولیس عہدیدار کی ہدایت پر بی ایس ایف عملہ نے انساز رائفلز کا استعمال کرتے ہوئے اندھادھند گولیاں چلائی جس میں شجاع الدین خطیب عرف توفیق ، محمد فرید اور محمد واجد علی عرف ولی جاں بحق ہوگئے ۔ فرقہ وارانہ فسادات سے نمٹنے کیلئے ریاپڈ ایکشن فورس موجود ہے جو بغیر مہلک ہتھیار کے فسادات کو قابو کرنے میں ماہر ہے ۔