کابل میں ناٹو کے قافلے پر حملہ ‘4شہری ہلاک

کابل۔10اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک خودکش حملہ آور نے کابل میں ناٹو کے قافلے کو نشانہ بناکر حملہ کیا جس میں چار شہری ہلاک اور کم از کم دیگر سات زخمی ہوگئے ۔ دارالحکومت میں یہ تازہ ترین خودکش حملہ تھا ۔ جب کہ سیاستدانوں کے درمیان متنازعہ انتخابی نتائج کے بارے میں صف آرائی جاری ہے ۔ ناٹو فوج نے حملہ پر فوری کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔غیر ملکی فوجی تیزی سے اپنی جنگی کارروائیاں بند کرتے ہوئے طالبان شورش پسندوں کے خلاف اپنی 13سالہ جنگ اختتام پر افغانستان سے تخلیہ کی تیاری کررہی ہے ۔

11:30بجے دن غیر ملکی فوج کا ایک قافلہ خودکش بم بردار کے حملہ کی زد میں آگیا جس سے چار شہری ہلاک اور دیگر سات زخمی ہوگئے ۔ وزارت داخلہ کے ترجمان صادق صدیقی نے اپنے ٹوئیٹر پر تحریر کیا کہ یہ حملہ خودکش بم بردار حملہ تھا ۔ طالبان کے ترجمان نے کہا کہ اس حملہ کی ذمہ داری شورش پسندقبول کرتے ہیں ۔ مقام واردات پر موجود ایک دکاندار نے کہا ہے کہ اُس نے پورے علاقہ میں خون میں نہائے ہوئے کئی افراد کو دیکھا ہے۔ دھماکہ زبردست تھا جس سے عمارتوں کی کھڑکیاں کے شیشے چکناچور ہوگئے ۔ کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ افغانستان میں امریکہ زیر قیادت غیر ملکی فوجیوں نے جن کی تعداد 2012ء میں دیڑھ لاکھ تھی اور اب صرف 44,300رہ گئی ہے ۔ جاریہ سال کے اختتام تک افغانستان کے تخلیہ کا پروگرام بنالیا ہے حالانکہ 10ہزار فوجی آئندہ صدر کے صیانتی معاہدوں پر امریکہ اور ناٹو کے ساتھ دستخط ہونے تک ملک میں موجود رہیں گے ۔ افغانستان کے دو حریف صدارتی امیدواروں نے ایک معاہدہ پر دستخط کردیئے ہیں تاکہ ایک قومی متحدہ حکومت قائم کی جائے ۔ اس طرح واضح طور پر انتخابی تنازعہ کے بارے میں صف آرائی ختم ہوچکی ہے جس سے نسلی تنازعہ کے احیاء کا خطرہ تھا ۔ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے عہد کیا ہے کہ کوئی بھی صدر بنے مشترکہ طور پر جدوجہد کی جائے گی ۔ 14جون کے انتخابات میں کامیابی کا قطعی فیصلہ 80لاکھ رائے دہندے کرچکے ہیں ‘ تاہم رائے دہی میں دھاندلیوں کی شکایات کے بعد ووٹوں کی دوبارہ جانچ کی جارہی ہے ۔