کابل : طالبان کا ہوٹل پر حملہ، 9 ہلاک، متعدد زخمی

کابل؍ نئی دہلی، 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) طالبان کی طرف سے کابل کے ایک پُرآسائش ہوٹل میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کئے گئے حملے کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 9 ہو گئی ہے۔ مہلوکین میں غیر ملکی سفارتکار، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ افغان وزارت داخلہ کے حکام نے اس امر کی با ضابطہ طور پر تصدیق کر دی ہے۔ مہلوکین میں ایک ہندوستانی شہری شامل ہونے کی بھی توثیق کی گئی تھی۔ تاہم نئی دہلی میں وزارت امور خارجہ کے عہدیداروں نے کہا کہ اس حملے میں کوئی بھی ہندوستانی ہلاک نہیں ہوا ہے۔ واضح رہے کہ طالبان کی طرف سے یہ ہولناک کارروائی افغانستان کے متوقع صدارتی انتخاب سے محض دو ہفتے پہلے کی گئی ہے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی کے مطابق مرنے والوں میں تین غیر ملکی خواتین، تین مرد اور دو بچے شامل ہیں۔ چار نوجوان جنہوں نے پستول اپنی جرابوں میں چھپا رکھے تھے، کابل کے سرینا ہوٹل کی سکیورٹی کے کئی حصار توڑتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ سرینا ہوٹل کابل میں آنے والے اہم ترین مہمانوں کی قیام گاہ سمجھا جاتا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں پیراگوائے سے تعلق رکھنے والا ایک سفارتکار بھی شامل ہے جو صدارتی انتخاب کی مانیٹرنگ کیلئے کابل آیا تھا۔ فرانسیسی نیوز ایجنسی ’اے ایف پی‘ کا ایک اسٹاف رپورٹر سردار احمد بھی مہلوکین میں شامل ہے۔ 40 سالہ سردار کے ساتھ اس کی بیوی اور تین میں سے دو بچے بھی کم عمر بندوق برداروں کی گولیوں کا شکار ہوگئے۔ ایک اے ایف پی اسٹاف فوٹوگرافر نے شہر کے اسپتال میں چاروں نعشوں کی شناخت کی ہے۔ دریں اثناء وزیر داخلہ محمد ایوب سالانگی کے مطابق مہلوکین کی تعداد 9 ہو گئی ہے، ان میں پانچ افغانی اور چار غیر ملکی ہیں۔ مہلوک بیرونی افراد ہندوستان، پاکستان، کناڈا اور نیوزی لینڈ کے شہری تھے۔ ترجمان وزارت داخلہ صدیق صدیقی نے کہا کہ حملہ آوروں میں سے دو کو سرینا کی رسٹورنٹ میں گولی مار دی گئی، تیسرے کو باتھ روم میں اور چوتھے کو قریبی علاقہ میں ہلاک کیا گیا۔ افغانستان میں صدارتی انتخابات 5 اپریل کو کرائے جانے کی تیاری ہے۔ اس سلسلے میں سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔ دوسری جانب طالبان نے اس موقع پر حملوں میں شدت پیدا کرنے کی تیاری کی ہے۔