کابل ایرپورٹ پر بندوق برداروں کا حملہ

کابل 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بندوق برداروں نے سحر کے وقت سے پہلے کابل انٹرنیشنل ایرپورٹ پر راکٹ حملہ کیا جس کی وجہ سے ایرپورٹ عارضی طور پر بند کردیا گیا۔ فوج اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جس میں چاروں عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔ عسکریت پسندوں نے دو عمارتوں پر قبضہ کرلیا تھا جو ایرپورٹ سے 700 میٹر شمال میں زیرتعمیر تھیں اور اُنھیں اپنے اڈے کے طور پر استعمال کررہے تھے۔

وہاں سے راست راکٹ حملے اور فائرنگ ایرپورٹ پر کی جارہی تھی۔ بین الاقوامی لڑاکا جیٹ طیارے کابل کے اوپر پرواز کررہے ہیں۔ اِنھیں حملہ کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ افغان فوج کے جنرل افضل امان اور کابل پولیس کے سربراہ محمد ظاہر ظاہر نے بعدازاں کہاکہ چاروں حملہ آور ہلاک کردیئے گئے ہیں۔ حملہ بند ہوگیا ہے۔ کوئی بھی شہری یا ملازم پولیس ہلاک نہیں ہوا۔ بعدازاں ایرپورٹ دوبارہ کھول دیا گیا اور پروازوں کا آغاز ہوگیا۔ قبل ازیں فوج نے رن وے کا معائنہ کیا تھا اور دھماکو مادے اور کرچیاں تلاش کررہے تھے۔ سحر کے وقت سے قبل یہ حملہ افغانستان میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اہمیت رکھتا ہے

کیونکہ صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں تنازعہ پیدا ہوگیا ہے اور بیشتر غیر ملکی فوجیوں کے جاریہ سال کے اواخر میں تخلیہ سے قبل اقتدار کی پرامن منتقلی مشکوک ہوگئی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹیلیفون کرتے ہوئے ایک خبررساں ادارہ سے کہاکہ یہ حملہ طالبان نے کیا تھا۔ امان نے کہاکہ ایرپورٹ پر کئی راکٹ حملے کئے گئے لیکن کسی بھی طیارے کو نقصان نہیں پہونچا۔ ایرپورٹ پر سیویلین پروازیں ہوتی ہیں اور یہ ناٹو زیرقیادت افواج کا اڈہ بھی ہے جو طالبان اور دیگر شورش پسندوں سے گزشتہ 10 سال سے جھڑپوں میں مصروف ہے۔ ایرپورٹ کے قریب راکٹ حملے کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن عام طور پر ایرپورٹ کے اتنے قریب کبھی نہیں ہوئے تھے۔ کابل کے امریکی سفارت خانہ میں چوکسی اختیار کرلی گئی تھی کیونکہ شہر میں بھی حملہ کا اتنا ہی اندیشہ تھا۔