ڈی کے ارونا نے مائیک توڑکر پھینک دیا

کے ٹی آر کی مداخلت پر خاتون رکن برہم، تلخ الفاظ کا تبادلہ

حیدرآباد /10 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں آج بھی زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی، مائک توڑ دیئے گئے اور لفظی جھڑپ نے ایوان کو میدان جنگ بنادیا۔ ٹی آر ایس وزیر اور کانگریس کی سابق وزیر کے درمیان گرما گرم مباحث کے باعث صورت حال نازک ہو گئی، تاہم ایوان کے نظم و ضبط کو بگڑنے سے روکنے کے لئے اسپیکر نے ممکنہ کوشش کی، لیکن ’’دادا گیری‘‘ اور ’’توہین آمیز ریمارکس‘‘ نے کارروائی کو درہم برہم کردیا۔ ریاستی وزیر پنچایت راج و آئی ٹی کے ٹی آر اور کانگریس رکن اسمبلی مسز ڈی کے ارونا کے درمیان لفظی جھڑپ ہوگئی۔ اسپیکر کی جانب سے تحریک التواء نوٹس کے استرداد کے بعد مباحث کے آغاز پر مسز ارونا نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ٹی آر ایس کابینہ میں خواتین کو نظرانداز کرنے پر سوال اٹھایا، جس پر ٹی آر ایس رکن اسمبلی رویندر ریڈی نے مداخلت کی، لیکن مسز ارونا نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے انھیں ’’منہ بند رکھنے‘‘ کا مشورہ دیا۔ اس دوران کے ٹی آر نے کہا کہ اس قسم کی برہمی مناسب نہیں ہے، تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ چند وجوہات کی بناء پر خواتین کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا، مگر ہم نے خاتون وزراء اور عہدہ داروں کو جیل یا عدالتوں کے چکر کاٹنے کے لئے مجبور نہیں کیا اور نہ ہی انھیں سی بی آئی کے مقدمات میں پھنسایا ہے۔ انھوں نے برہمی کے انداز میں کہا کہ محبوب نگر کی غنڈہ گردی یہاں نہیں چلے گی اور انھیں (مسرز ارونا کو) محلوں کی سیاست سے باز آجانے کا مشورہ دیا۔ دریں اثناء کے ٹی آر کے اس بیان پر کانگریس ارکان اسمبلی احتجاجاً اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکر اسپیکر پوڈیم کے قریب پہنچ گئے، جب کہ اسپیکر نے کانگریس اور حکمراں جماعت کے درمیان لفظی تکرار کا ویڈیو فوٹیج دیکھ کر فیصلہ کرنے کا تیقن دیا اور ایوان کی کارروائی ملتوی کرتے ہوئے تمام جماعتوں کے فلور لیڈرس کو اپنے چیمبر میں طلب کیا۔ دو گھنٹے بعد جب دوبارہ ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو اسپیکر نے اس واقعہ کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو فوٹیج میں دونوں قصوروار پائے گئے ہیں، لہذا دونوں اپنے اپنے الفاظ سے دست بردار ہوکر افسوس یا معذرت خواہی کریں۔ اسپیکر کے اس بیان سے فلور لیڈرس نے بھی اتفاق کیا، اس طرح اسپیکر نے پہلے ڈی کے ارونا کو ردعمل ظاہر کرنے کا مشورہ دیا۔ اس دوران مسز ارونا نے غنڈہ گردی کے الزام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ غنڈہ گردی کر رہی ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ ڈپٹی چیف منسٹر سری ہری نے خواتین کے خلاف ریمارکس کرکے ان کی توہین کی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ارونا دروغ گوئی کا الزام عائد کیا۔ اس دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ارکان اپنے اپنے الفاظ سے دست بردار ہوکر معذرت خواہی کرلیں، کیونکہ معافی مانگنے سے کوئی چھوٹا نہیں ہو جاتا۔ انھوں نے اپنے فرزند کے ٹی آر کو معذرت خواہی کا مشورہ دیا۔ کے ٹی آر کانگریس رکن اسمبلی کے خلاف کچھ کہنا چاہتے تھے، مگر چیف منسٹر نے انھیں ’’نہ‘‘ کہتے ہوئے صرف ردعمل کے اظہار اور شور مچانے والے ٹی آر ایس ا رکان کو خاموش رہنے کا مشورہ دیا۔ بعد ازاں کے ٹی آر نے افسوس کا اظہار کیا۔ اس شرط پر معذرت خواہی کی کہ مستقبل میں اگرکوئی ’’منہ بند رکھنے‘‘ کا جملہ استعمال کرے تو اس سے بھی معذرت خواہی کروائی جائے۔