ادخال فیس کا اعلان کمائی کا سیزن ، خانگی اسکولس لاکھوں روپئے رشوت دینے پر مجبور
حیدرآباد۔ 17؍نومبر (سیاست نیوز)۔ حکومت کی جانب سے رشوت ستانی اور بدعنوانیوں سے پاک حکومت کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اعلانات کئے جارہے ہیں، لیکن محکمہ تعلیم میں موجود رشوت ستانی کے عمل کو فوری ختم کئے جانے کی ضرورت ہے تاکہ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کی جانب سے اسکولوں کو جاری ہراسانی کا معاملہ فوری طور پر ختم ہوسکے۔ ہر سال ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے دفاتر میں لاکھوں روپئے کی رشوت عہدیدار وصول کرتے ہیں اور خانگی اسکولوں کے ذمہ دار بحالت ِ مجبوری رشوت ادا کرتے ہوئے اپنے کام کروا لیتے ہیں۔ ایس ایس سی امتحانات کی امتحانی فیس کے ادخال کی تاریخ کا اعلان محکمہ تعلیم بالخصوص ضلع ایجوکیشن آفیسر اور نائب ضلع ایجوکیشن آفیسر کے دفاتر میں ’سیزن‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے، کیونکہ جب ایس ایس سی فیس داخل کرنے کے بعد خانگی اسکولوں کے ذمہ داران طلبہ کی فہرست و دیگر دستاویزات متعلقہ دفاتر میں داخل کرنے کے لئے پہنچتے ہیں تو ایک لامتناہی ہراسانی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ان دفاتر میں ایسے دستاویزات کے متعلق دریافت کیا جانے لگتا ہے جوکہ فوری طور پر دستیاب نہیں ہوسکتے جس کے سبب خانگی اسکولوں کے ذمہ داران ہزاروں روپئے بطور رشوت ادا کرتے ہوئے ایس ایس سی طلبہ کی تفصیلات داخل کررہے ہیں۔ بہادرپورہ، بنڈلہ گوڑہ، سعیدآباد، گولکنڈہ، چارمینار منڈلوں کی حالت انتہائی ابتر ہے جہاں متعلقہ دفاتر کا عملہ باضابطہ کاؤنٹر سائن کے لئے بھی قیمت کا تعین کئے ہوئے ہے۔ خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل سے اعلیٰ عہدیدار بھی واقف ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ ضلع ایجوکیشن آفیسر کے دفتر سے وابستہ ایک عہدیدار سے دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ ایس ایس سی امتحانات کی فیس کے ادخال کی تاریخ ختم ہوتے ہی اس ’سیزن‘ کا آغاز ہوتا ہے اور بدعنوانیوں میں ملوث عہدیدار اس سیزن سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں۔ مذکورہ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک خانگی اسکول ایس ایس سی امیدواروں کی تفصیلات کے اندراج و ادخال کے لئے کم از کم 25 ہزار روپئے تک خرچ کرنے پر مجبور ہے۔ ان دفاتر میں اسکول کے ذمہ داروں سے ایسے دستاویزات طلب کئے جانے لگتے ہیں جوکہ فوری طور پر بہ آسانی دستیاب نہیں ہوتے جب کہ ان دستاویزات کے ریکارڈ محکمہ تعلیم کے دفاتر میں موجود ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود اپنے ریکارڈ سے تنقیح کرنے کی بجائے عہدیدار و عملہ اسکول کے ذمہ داروں سے ہی وہ ریکارڈ طلب کرتے ہیں، جو پہلے سے دفتر میں جمع کردہ ہے۔ جب اسکول انتظامیہ کے ذمہ دار نقولات پیش کرتے ہیں تو ان سے اصل دستاویزات طلب کئے جانے لگتے ہیں۔ اسی طرح ہراسانی کے ذریعہ ہزاروں روپئے اینٹھ رہے محکمہ تعلیم کے عملہ و عہدیداروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ضرورت ہے۔ انسداد رشوت ستانی محکمہ کو چاہئے کہ وہ ایس ایس سی امتحانات کی فیس کے ادخال سے تمام منڈلوں کے ڈپٹی ڈی ای او دفاتر پر خصوصی نظر رکھیں تاکہ بدعنوانیوں میں ملوث عملے پر شکنجہ کسا جاسکے۔