ڈینٹل ہائی جینسٹ پوسٹ کے لیے 5 لاکھ روپئے رشوت کی طلبی

کنٹراکٹ بنیاد پر کام کے لیے 50 ہزار روپئے کی مانگ ، قابل مسلم نوجوان کیا کریں؟

حیدرآباد ۔ 13 ۔ جون : ہندوستان میں 13 تا 16 فیصد آبادی کے باوجود ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے ان حالات میں اگر ایسے مسلم نوجوانوں کو جو متعلقہ حکام کے عائد کردہ تمام شرائط پر پورا اترتے ہیں ملازمت نہ دی جائے تو پھر ان میں مایوسی ، نا امیدی اور حکومتوں و حکام کے تئیں عدم اعتمادی کا پیدا ہونا ضروری ہے ۔ تمام تر صلاحیتوں اور قابلیت کے باوجود سرکاری ملازمت حاصل کرنے میں ناکامی کا درد کیا ہوتا ہے ۔ اس بارے میں ملک پیٹ کے رہنے والے تعلیم یافتہ اسد خان جیسے نوجوان اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آرگنگ کیمسٹری ( نامیاتی کیمیاء ) سے ایم ایس سی کرنے والے 28 سالہ اس نوجوان نے حیدرآباد سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اور نوجوان سید علیم کے ساتھ ای ایس آئی سی ماڈل ہاسپٹل اینڈ او ڈی سی کی جانب سے ڈینٹل ہائی جین پوسٹ کے لیے کے لیے سارے ملک بھر سے درخواستیں طلب کرنے پر درخواست پیش کی تھی ۔ انہوں نے 29 جنوری 2012 کو ممبئی میں اس پوسٹ کے لیے باضابطہ تحریری امتحان بھی لکھا لیکن آج تک اس تحریری امتحان کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ اس بارے میں اسد خان نے بتایا کہ Dental Hygenist پوسٹ کے لیے سارے ملک سے دو امیدواروں نے امتحان لکھا جن کا تعلق حیدرآباد سے تھا لیکن دو پوسٹوں کے لیے دو امیدواروں کے باوجود کسی کا بھی تقرر نہیں کیا گیا ۔ اس سلسلہ میں وہ کہتے ہیں کہ تحریری امتحان کے موقع پر ان سے 5 لاکھ روپئے رشوت طلب کی گئی تھی ۔ ایک ایسے نوجوان کے لیے جن کے والد خانگی ملازم ہو اور 5 بھائیوں و تین بہنوں کی ذمہ داری ہو وہ کس طرح 5 لاکھ روپئے کی کثیر رقم بطور رشوت پیش کرسکتا ہے چنانچہ انہوں نے رشوت کی بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کیا لیکن وہی ہوا جس کا انہیں خوف تھا ۔ ان پوسٹوں کے لیے منعقدہ تحریری امتحان کے نتائج جاری نہیں کئے گئے ۔ حال ہی میں اسد خاں نے آر ٹی آئی کے تحت ڈپٹی ڈائرکٹر و سی پی آئی او ( اڈمنسٹریشن ) ای ایس آئی سی کو ایک درخواست پیش کی اور اس پوسٹ کے لیے مقررہ اہلیت کا پیمانہ اور کٹوتی پر روشنی ڈالنے کی گذارش کی جس کے جواب میں حکومت ہند کی شائع کردہ گزٹ مورخہ 21-05-2011 تا 27-06-2011 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ۔ کسی بھی مسلمہ یونیورسٹی سے سائنس ( بیالوجی ) میں ڈگری یا اس کے مماثل امتحان میں کامیاب ، مرکزی حکومت / ریاستی حکومت / اے آئی سی ٹی ای کی مسلمہ یونیورسٹی سے ڈپلوما ان ڈینٹل ہائی جین کرنے والے امیدوار یا ڈینٹل ہائی جین کی حیثیت سے ڈینٹل کونسل میں رجسٹریشن رکھنے والے نوجوان اور ڈینٹل ہائی جینسٹ کی حیثیت سے کام کا دو سالہ تجربہ رکھنے والے اس پوسٹ کے اہل ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسد خاں مذکورہ تمام شرائط و معیارات پر پورے اترتے ہیں اور ان کی عمر بھی 30 سال سے کم ہے ۔ قانون حق معلومات کے تحت جو سوالات کئے گئے اس کے جواب میں ESIC Model Hospitals کے حکام نے اعتراف کیا کہ دو پوسٹوں کے لیے دو اہل امیدواروں کی موجودگی کے باوجود نتائج جاری نہیں کئے گئے ۔ تاہم ان لوگوں نے اس بارے میں کوئی وجوہات نہیں بتائیں ۔ بلکہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ای ایس آئی سی / او ڈی سی سے اس جواب کے اندرون 50 یوم ربط پیدا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ اسد خان نے راقم الحروف کو بتایا کہ انہوں نے 2011 میں درخواست دی 2012 میں امتحان لکھا لیکن اب تک نتائج جاری نہیں کئے گئے ۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں امیدواروں کے مسلمان ہونے کے باعث نتیجہ روکدیا گیا ۔ اسد خان نے گاندھی میڈیکل کالج میں بھی اس عہدہ کے لیے ( کنٹراکٹ کی بنیاد پر ) درخواست دے رکھی ہے ۔ وہاں بھی کوئی حوصلہ افزاء جواب نہیں دیا جارہا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گاندھی ہاسپٹل میں بھی ان سے رشوت طلب کی گئی تھی لیکن وہ رشوت دے کر ملازمت حاصل کرنا نہیں چاہتے ویسے بھی وہ بیروزگار ہیں ۔ اسد خاں نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کرتے ہوئے تعاون کی درخواست کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے عثمانیہ میڈیکل کالج سے ڈپلوما ان ڈینٹل ہائی جین کیا ہے وہاں ہر سال 20 نشستیں ہوا کرتی تھیں لیکن 30 بیاچس نکلنے کے بعد یہ کورس بند کردیا گیا ہے ۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ان 30 بیاچس میں سے صرف پہلے بیاچ کو ہی سرکاری ملازمتیں ملی ہیں ۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ آخر تمام معیارات پر اترنے کے باوجود انہیں ملازمت سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے وہ غریب ہیں رشوت نہیں دے سکتے ۔ اس ضمن میں اسد خاں نے متعلقہ حکام سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ۔۔